Gas Leakage Web ad 1

این سی اے کا والدین کو بچوں کی تصاویر شیئر کرنے سے متعلق انتباہ

0

بچوں کی تصاویر کا غلط استعمال، اے آئی سے جعلی مواد بنانے کا خطرہ بڑھ گیا

Gas Leakage Web ad 2

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بظاہر عام خاندانی تصاویر بھی سائبر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ لگنے کے بعد مصنوعی ذہانت کی مدد سے حقیقت سے قریب تر جعلی اور نازیبا مواد میں تبدیل کی جا سکتی ہیں، جس سے بچوں کی پرائیویسی اور تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں موجود دنیا کی 12 ویں بلند چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیماؤں کے لاپتا ہونے کا خدشہ

رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان، جسے شرینٹنگ کہا جاتا ہے، نے ڈیجیٹل سکیورٹی سے متعلق نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ والدین یادگار لمحات دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے بچوں کی تصاویر پوسٹ کرتے ہیں، تاہم یہی مواد بعض اوقات مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق جرائم پیشہ عناصر مصنوعی ذہانت کے ذریعے عام تصاویر کو جعلی تصاویر اور ویڈیوز میں تبدیل کر رہے ہیں، جنہیں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران اے آئی سے تیار کی گئی بچوں سے متعلق تقریباً 3 ہزار 500 جعلی تصاویر اور ویڈیوز رپورٹ ہوئیں، جبکہ 2024 میں ایسے کیسز کی تعداد صرف 13 تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ اس نوعیت کے سائبر جرائم کے تیزی سے بڑھنے کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سوشل میڈیا پروفائلز کو پرائیویٹ رکھیں اور بچوں کی تصاویر صرف قابلِ اعتماد افراد کے ساتھ شیئر کریں۔ اس مقصد کے لیے کلوز فرینڈز اور دیگر پرائیویسی فیچرز کا استعمال مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل پرائیویسی کے حوالے سے آگاہ کریں اور تصاویر یا ویڈیوز آن لائن شیئر کرنے سے پہلے ان کی رضامندی کو بھی اہمیت دیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کی آن لائن حفاظت اور پرائیویسی کا تحفظ پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.