واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں ایک حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں، جس پر آئندہ 30 روز کے دوران عمل درآمد کیا جائے گا۔

امریکی اخبار کے مطابق نئے ٹیرف کا اطلاق وائن، ہاکی سے متعلق مصنوعات، سیمنٹ اور دیگر کینیڈین اشیا پر ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
سندھ اور اسلام آباد ہائیکورٹس کیلئے نئے ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری
صدر ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کینیڈا امریکی الکوحل، آٹوموبائل اور ڈیری مصنوعات کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے، جس کے جواب میں یہ اقدام کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے نئے ٹیرف کے نفاذ کے لیے 1930 کے تجارتی ایکٹ کی ایک شق کو قانونی جواز بنایا ہے۔
دوسری جانب کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی فیصلے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا آزاد اور شفاف تجارت کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے۔
اپنے بیان میں مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا کئی ماہ سے جاری تجارتی تنازع کے حل کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم اگر ضرورت پڑی تو ملک اپنے معاشی مفادات اور تجارتی طاقت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام بھی کرے گا۔



