ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر نرخوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جون 2026 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی **ایک روپے 20 پیسے فی یونٹ** مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔
نیپرا کے مطابق سی پی پی اے کی درخواست پر **29 جولائی** کو عوامی سماعت ہوگی، جس کے بعد اتھارٹی شواہد اور مؤقف کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی کہ بجلی کی قیمت میں اضافے کی منظوری دی جائے یا نہیں۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ جون 2026 کے دوران **13 ارب 43 کروڑ 10 لاکھ یونٹس** بجلی پیدا کی گئی، جبکہ ڈسکوز کو **13 ارب یونٹس سے زائد** بجلی فراہم کی گئی۔
سی پی پی اے کے مطابق جون میں بجلی کی اوسط پیداواری لاگت **8 روپے 91 پیسے فی یونٹ** رہی، جبکہ اسی مدت کے لیے ریفرنس لاگت **7 روپے 71 پیسے فی یونٹ** مقرر تھی، جس کے باعث فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی درخواست دائر کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق جون میں بجلی کی پیداوار میں **39.03 فیصد** حصہ پن بجلی کا رہا، جبکہ **13.40 فیصد** بجلی جوہری ایندھن، **12.65 فیصد** درآمدی کوئلے، **11.02 فیصد** درآمدی ایل این جی، **10.11 فیصد** مقامی کوئلے، **6.45 فیصد** مقامی گیس، **5.03 فیصد** ہوا، **0.82 فیصد** شمسی توانائی اور **0.74 فیصد** فرنس آئل سے پیدا کی گئی۔
اگر نیپرا اس درخواست کی منظوری دے دیتا ہے تو بجلی کے نرخوں میں مجوزہ اضافہ آئندہ ماہ صارفین کے بلوں میں شامل کیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ عوامی سماعت کے بعد کیا جائے گا۔