Gas Leakage Web ad 1

ملک میں چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص اور علاج کا نظام ناکام ہوچکا: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن

0

یقیناً، ذیل میں خبر کو مکمل طور پر نئے انداز میں، اصل معلومات برقرار رکھتے ہوئے ری رائٹ کیا گیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک میں چھاتی کے سرطان کے علاج میں ہونے والی تاخیر پر عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے بعد شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اس مرض کی بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

’طیارہ رول کر رہا ہے‘، تباہ ہونیوالے کارگو طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاورز کی آخری گفتگو

پی ایم اے کے مطابق چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے بعد علاج شروع ہونے میں اوسطاً 111 روز کی تاخیر ہوتی ہے، جس کے باعث کینسر کے جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ تقریباً چار ماہ کی یہ تاخیر مریضوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں چھاتی کے سرطان سے متاثرہ مریضوں کی بقا کی شرح 85 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 30 فیصد سے بھی کم ہے، جو ملک میں تشخیص اور علاج کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔

پی ایم اے کے مطابق بنیادی مراکزِ صحت میں چھاتی کے سرطان کی اسکریننگ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ عوام میں آگاہی کی کمی اور مختلف سماجی رکاوٹوں کے باعث خواتین اکثر بیماری کی آخری مراحل میں اسپتالوں کا رخ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگا علاج اور غربت بھی بروقت طبی سہولیات تک رسائی میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ علاج میں موجودہ 111 روزہ تاخیر ہزاروں خواتین کے لیے سزائے موت کے مترادف ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں کینسر کی ادویات اور ریڈیو تھراپی مشینوں کی شدید کمی بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

پی ایم اے نے مطالبہ کیا کہ تحصیل اور ضلعی سطح کے اسپتالوں میں بریسٹ کینسر کی مفت اسکریننگ مراکز قائم کیے جائیں، سرکاری اسپتالوں میں ریڈیو تھراپی مشینوں اور کیموتھراپی ادویات کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ حکومت چھاتی کے سرطان کی اسکریننگ اور علاج کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی فوری طور پر شروع کرے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.