برطانوی تحقیقی ادارے "پاکستان پلے بک” کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معرکۂ حق کے دوران پاکستان کو عسکری اور سفارتی محاذ پر نمایاں برتری حاصل رہی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے متعدد بھارتی جنگی طیاروں، جن میں رافیل طیارے بھی شامل ہیں، کو تباہ کیا جبکہ امریکی اور فرانسیسی انٹیلیجنس حکام نے بھی بھارت کے بھاری نقصانات کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور دفاعی اتاشی اپنے نقصانات کا اعتراف کر چکے ہیں۔
اسرائیل کا ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کیلئے سنگین خطرہ ہے: پاکستان
تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی عسکری برتری نے بھارت کی دفاعی کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور آپریشن سندور کے دوران بھارتی حملے پاکستانی تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کامیابی جدید جنگی نظام، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مؤثر دفاعی حکمت عملی کا نتیجہ تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام کے باعث بھارتی ڈرونز مؤثر ثابت نہ ہو سکے اور دستیاب شواہد کے مطابق پاکستان کا کوئی جنگی طیارہ تباہ نہیں ہوا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے عسکری برتری حاصل کی۔ اس ضمن میں جے 10 سی اور رافیل طیاروں کی قیمتوں کا موازنہ بھی پیش کیا گیا، جس کے مطابق جے 10 سی کی قیمت 40 سے 55 ملین ڈالر جبکہ رافیل کی قیمت 115 سے 140 ملین ڈالر کے درمیان ہے۔
تحقیقی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بھارت کو تقریباً 45 سے 51 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ معرکۂ حق کے بعد پاکستان کے عالمی وقار اور سفارتی ساکھ میں اضافہ ہوا اور یورپی یونین سمیت متعدد عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی تکمیل میں پاکستان کے کردار کو بھی عالمی سطح پر سراہا گیا اور ماہرین نے رائے دی کہ جدید جنگوں میں صرف دفاعی اخراجات ہی نہیں بلکہ عسکری قیادت کی بصیرت، پیشہ ورانہ مہارت اور مضبوط حکمت عملی بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔