نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان نے بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
وینزویلا کے ہلاکت خیز زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 10 ہزار ہونے کا خدشہ
عاصم افتخار نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کی سطح ریکارڈ حد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ای ون منصوبہ ایک متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 4 ہزار 750 نئے رہائشی یونٹس کی منظوری ایک تشویشناک پیش رفت ہے اور یہ منصوبہ دو ریاستی حل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے مالی وسائل کو روکنا فلسطینی اداروں کو کمزور کرنے اور حکمرانی کے نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اسرائیل نے ایک نئے منصوبے کی منظوری دی تھی جس کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا بتایا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مغربی کنارے اور یروشلم کے درمیان 3 ہزار 401 نئے گھر اسرائیلی آبادکاروں کے لیے تعمیر کیے جائیں گے۔