Gas Leakage Web ad 1

مشکل حالات کے باوجود ریلیف پر مبنی بجٹ بنایا: عطا اللہ تارڑ

0

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے فعال افراد کو بجٹ کے حوالے سے بریفنگ دینا ضروری تھا تاکہ حکومتی معاشی اقدامات اور بجٹ کی ترجیحات کو درست انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔

Gas Leakage Web ad 2

انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں مسلم لیگ ن کی قیادت نے معیشت کو سنبھالا، ملک کو آئی ایم ایف سے ہمیشہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہی نجات دلائی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ذاتی کوششوں سے آئی ایم ایف سے معاملات طے کیے، حکومتی کاوشوں کی بدولت آج ملک میں معاشی استحکام ہے، گزشتہ 2 سال میں مشکل فیصلے کیے گئے اور اب عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ٹیکس نہ دینے والے کا بوجھ ٹیکس دینے والے پر نہیں ڈالا گیا، پورٹس، انکم ٹیکس اور ایف بی آر جیسے اداروں میں کرپشن کی روک تھام کو یقینی بنایا گیا ہے، تاہم شوگر ملوں سے 60 ارب روپے کا ٹیکس اکھٹا کیا گیا جبکہ انویسٹمنٹ کے ذریعے گزشتہ ایک سال میں 800 ارب روپے جمع کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ والے کو ٹیکس سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے، جبکہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والا صرف 1 فیصد ٹیکس دے گا۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اپنا گھر منصوبے پر 90 ارب روپے میں سے 11 ارب روپے لوگوں کو فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ ہاؤسنگ کے شعبے میں ترقی سے 12 صنعتوں کا پہیہ چل پڑا ہے۔ ان کے مطابق ایکسپورٹرز زیادہ منافع کمائیں گے تو نئی صنعتوں کے قیام میں مدد ملے گی۔

محرم الحرام کے دوران پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، 7 قسم کی پابندیاں عائد

وزیر اطلاعات نے کہا کہ شوگر ملز سے نکلنے والی ہر بوری پر بارکوڈ موجود ہوتا ہے، جبکہ ٹیکس وصولی اور دیگر تنازعات کے حل کے لیے نئے ٹربیونلز قائم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 مرلے کا پلاٹ یا گھر خریدنے اور بیچنے والوں کے لیے ٹیکس میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جبکہ آئی ٹی کمپنیوں کو بھی رعایت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے معاملات بہتر بنا سکیں۔

اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ بجٹ صنعتکاروں، برآمد کنندگان، خواتین اور نوجوانوں کے لیے ریلیف کا بجٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ پیکیج کے تحت زرعی قرضوں کے لیے 110 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ حکومت پائیدار بنیادوں پر معاشی استحکام برقرار رکھنا چاہتی ہے اور یہ بجٹ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کے لیے سہولتوں پر بھی مبنی ہے، جبکہ 5 ارب روپے کی ڈیوٹی ختم کر کے ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.