کسان اتحاد پاکستان کے مرکزی چیئرمین خالد حسین باٹھ نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں کسانوں کو بجلی کے بلوں اور کھاد پر ریلیف دیا جائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے باعث کسان گندم اور دیگر فصلوں کے لیے مطلوبہ مقدار میں کھاد استعمال نہیں کر سکے جس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق صرف چند ایکڑ زمین رکھنے والے کسانوں کے ٹیوب ویل کے بجلی بل چار لاکھ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
سینٹ کام کی بحرین سمیت خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی تردید
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عالمی مالیاتی ادارے کا دباؤ صرف کسانوں کے لیے ہے، اور مطالبہ کیا کہ کھاد، زرعی ادویات، بیجوں اور ڈیزل پر مزید ٹیکس کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
چیئرمین کسان اتحاد نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو بجٹ کے بعد ملک بھر کے کسان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور پھر کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکے گی۔