درخواست میں نیپرا، وفاقی حکومت سمیت دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت غیر استعمال شدہ بجلی یونٹس کی قیمت صارفین سے وصول کر رہی ہے۔ درخواست کے مطابق بجلی کے بلوں میں صلاحیت کے چارجز پارلیمان کی منظوری کے بغیر شامل کیے گئے ہیں جبکہ مقامی سرمایہ کاروں کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں قومی گرڈ سے ادائیگیاں کرنا آئینی طور پر درست نہیں۔
اے این ایف کا مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن، 1 کروڑ 73 لاکھ مالیت کی چرس برآمد
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سسٹم میں استعمال ہونے والی بجلی کے مطابق ادائیگیوں کا حکم دیا جائے اور حکومت کو بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں سے اضافی وصول کیے گئے کھربوں روپے واپس لینے کا حکم دیا جائے۔
مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نیپرا سمیت اس معاملے میں ملوث دیگر حکام کے احتساب کا بھی حکم جاری کرے۔