برطانوی حکومت کے مطابق اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی خوراک پروگرام نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
پنجاب اور آذربائیجان کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق
برطانوی وزارتِ خارجہ اس صورتحال کے پیش نظر لندن میں ایک بڑے امدادی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہی ہے، جہاں ترقیاتی پالیسی کے نئے لائحہ عمل اور خوراک کے بحران سے نمٹنے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو پہلے ہی معاشی اور انسانی بحران کے دہانے پر موجود ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا کہ دنیا ایک عالمی غذائی بحران کی طرف خاموشی سے بڑھ رہی ہے اور اس خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایران کی جانب سے ایک بین الاقوامی بحری گزرگاہ کو متاثر کیے جانے کے نتیجے میں کروڑوں لوگ بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اور فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔