اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کیس کو مقرر کرنے سے متعلق متفرق درخواستیں کل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواستیں مقرر کرنے کے حوالے سے کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔ جسٹس محمد اعظم خان نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متفرق درخواستوں پر آج بھی سماعت کی تھی۔
مونی رائے سے علیحدگی کی وجہ کوئی تیسرا؟ سوراج نے خاموشی توڑ دی
سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سزا معطلی سے متعلق درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے تصدیق شدہ حکم نامے کو متفرق درخواست کے ذریعے جمع کرانے کی بھی ہدایت دی تھی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلاء نے عدالتی فیصلے کی کاپی متفرق درخواست کے ذریعے جمع کرائی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی جمع ہونے کے بعد کیس کو کل دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا۔
اس سے قبل جسٹس محمد اعظم خان نے درخواستوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے حکم نامے کی مصدقہ کاپی جمع نہ ہونے پر اعتراض اٹھایا تھا۔ عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کے صدر نعیم گجر اور سابق صدر بار بھی عدالت میں موجود تھے۔ ایمان مزاری کی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری اور دیگر سول سوسائٹی کے ارکان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
دورانِ سماعت فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے۔ عدالت کے استفسار پر سپریم کورٹ کے حکم نامے کی کاپی بھی پڑھی گئی۔
عدالت نے سوال کیا کہ مصدقہ کاپی کہاں ہے جس پر فیصل صدیقی نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے حاصل کردہ آرڈر درخواست کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا اور اب مصدقہ کاپی بھی جمع کرائی جا رہی ہے۔
فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے مصدقہ کاپی عدالت میں پیش کرنے کی کوشش کی تاہم جسٹس محمد اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ یہ طریقہ کار درست نہیں، مصدقہ کاپی برانچ میں جمع کرائی جائے، عدالت اس طریقے سے دستاویز وصول نہیں کرتی۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اسی روز نئی درخواست دائر کریں گے۔