امریکی اور اسرائیلی جنگ کے دوران ایران کے خلاف ایک ممکنہ خفیہ فوجی سرگرمی کے حوالے سے عراق میں ایک حساس انکشاف سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی ذرائع ابلاغ میں معلومات سامنے آنے کے بعد عراقی حکام نے اس معاملے پر فی الحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ دو عراقی سکیورٹی اہلکاروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فورسز نے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک پرانے ہوائی اڈے کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا۔
گوگل نے صارفین کیلئے زبردست پرائیویسی فیچر متعارف کرا دیا
اسی حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں بھی اس دعوے کی تصدیق کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صحرائے نجف کے علاقے میں اسرائیلی اہلکاروں کی موجودگی دیکھی گئی اور اس دوران عراقی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں ایک عراقی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق یہ اڈہ ایک ترک شدہ فضائی پٹی پر قائم کیا گیا تھا اور بعد میں وہاں سے فوجی سرگرمیاں ختم ہو گئیں، تاہم امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ کچھ سازوسامان وہاں چھوڑ دیا گیا ہو سکتا ہے۔ اہلکار کے مطابق اس آپریشن میں امریکا کے ساتھ ہم آہنگی کا بھی امکان ہے، لیکن اس کی نوعیت اور دورانیے کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔