Gas Leakage Web ad 1

سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار پر اہم فیصلہ جاری

0

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بلکہ ہم پلہ عدالتیں ہیں، جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے قانونی اصولوں کے حوالے سے دیگر عدالتوں پر لازم ہوں گے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 189 کسی ایک عدالت کو دوسری عدالت کے ماتحت نہیں بناتا۔

Gas Leakage Web ad 2

تفصیلی فیصلے کے مطابق آئینی اور غیر آئینی مقدمات کو ایک ساتھ چلانا آئینی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، اس لیے کلب شدہ آئینی اور ریگولر مقدمات کو الگ الگ فورمز پر بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آئینی مقدمات وفاقی آئینی عدالت جبکہ ریگولر مقدمات سپریم کورٹ سنے گی، اور متضاد فیصلوں سے بچنے کے لیے ’’عدالتی احترام‘‘ کے اصول کو اپنایا جائے گا۔

کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کو اربوں روپے کا ریلیف ملنے کا امکان

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں عدالتیں ایک دوسرے کے دائرۂ اختیار کا احترام کرتے ہوئے اپنے اپنے دائرہ کار میں فیصلے کریں گی۔ آرٹیکل 199 کے تحت دائر آئینی درخواستوں کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی جبکہ عام سول اور ریگولر اپیلوں کا اختیار بدستور سپریم کورٹ کے پاس رہے گا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو خصوصی آئینی دائرۂ اختیار حاصل ہے، اور ہائیکورٹ کے آئینی نوعیت کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت منتقل تصور ہوں گی، تاہم کرایہ داری اور بعض خاندانی معاملات اس کے دائرۂ اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے مشترکہ فیصلے سے متعلق مقدمات کو ڈی کلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سول نوعیت کی اپیلیں سپریم کورٹ میں ہی زیر سماعت رہیں گی، جبکہ آئینی درخواستوں سے متعلق اپیلیں وفاقی آئینی عدالت منتقل کی جائیں گی۔

فیصلے کے مطابق توہین عدالت کے مقدمات وہی عدالت سنے گی جس کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی سے متعلق توہین عدالت کی کارروائی سپریم کورٹ میں ہی چلے گی، اور کہا گیا ہے کہ توہین عدالت کا اختیار عدالت کے وقار اور عملداری سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.