چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت بتایا گیا کہ 1969 میں محمد بوٹا نے اپنے ایک بیٹے محمد حسین کو پلاٹ بطور ہبہ دیا تھا، جبکہ 31 سال بعد دوسرے بیٹے محمد نذر نے سال 2000 میں اس کے خلاف دعویٰ دائر کیا۔
پنجاب کے 10 اضلاع میں نئی الیکٹرک بسیں دینے کی منظوری
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ محمد بوٹا کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، تاہم پلاٹ صرف ایک بیٹے کے نام منتقل کیا گیا تھا۔
اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ دعویٰ کرنے والے کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسے واقعی پلاٹ دیا گیا تھا۔ درخواست گزار محمد حسین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دوسرے بیٹے نے جرح کے دوران ہبہ کو تسلیم کیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ صرف جرح کے دوران کسی بات کو تسلیم کرنا کافی نہیں ہوتا، قانون کے مطابق دعویٰ کو باقاعدہ طور پر ثابت کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایسے معاملات میں تمام فریقین کے حقوق کو مدنظر رکھا جاتا ہے، اور اسی بنیاد پر دوسرے بیٹے کو بھی پلاٹ میں حصہ دینے کا حکم جاری کیا گیا۔