ایران نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے جنگ بندی کے حصول کے لیے بھرپور اور مسلسل محنت کی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سلیکٹرز، کوچ مقرر کر دئیے
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کر دی تھی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے اور اس دوران دو طرفہ جنگ بندی برقرار رہے گی۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے ایران کے خلاف فوری کارروائی مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ یہ جنگ بندی اس شرط سے مشروط ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ انداز میں کھولنے پر آمادہ ہو جائے، اور اس اقدام کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور دیرپا امن کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے پیش کیا گیا دس نکاتی منصوبہ مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابل عمل سمجھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ماضی کے بیشتر اختلافی معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے اور دو ہفتوں کی یہ مہلت حتمی معاہدے کو مکمل کرنے میں مدد دے گی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ بطور امریکی صدر اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ایک اعزاز ہے، اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہو جائے گا۔