دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے لیے عید ایک ایسا مذہبی تہوار ہے جسے ہر ملک میں لوگ اپنی روایتی انداز میں مناتے ہیں۔ دیگر مذاہب کے لوگ بھی اپنے مذہبی تہواروں کو مقامی روایات کے مطابق مناتے ہیں، کیونکہ مذہبی تہواروں کو اپنے انداز میں منانا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔
اسلام کے مذہبی تہوار دیگر مذاہب جیسے عیسائیت، یہودیت، بدھ مت اور ہندو مذہب کے تہواروں کے مقابلے میں زیادہ تر ایک ہی دن نہیں منائے جاتے، کیونکہ مسلمان اپنے مذہبی دنوں کا تعین زیادہ تر چاند کے حساب سے کرتے ہیں۔
چونکہ دنیا میں وقت کا فرق ہے، اسی لیے مختلف ممالک میں اسلامی مہینے ایک ہی وقت میں شروع اور ختم نہیں ہوتے، اور ایک یا دو دن کا فرق آ جاتا ہے۔ اس وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں عید بھی ایک ہی دن نہیں منائی جاتی۔
زیادہ تر خطے کے ممالک ایک ہی دن عید مناتے ہیں، جیسے مشرق وسطیٰ کے ممالک، خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ممالک، افریقی ممالک اور جنوبی ایشیائی ممالک۔ تاہم یورپ اور امریکا میں کئی مسلمان ممالک اپنے کیلنڈر کے حساب سے عید مناتے ہیں۔
مثال کے طور پر، دنیا کے کئی اسلامی ممالک نے 2017 کی عیدالفطر 25 جون کو منائی، جبکہ پاکستان سمیت کچھ جنوبی اور وسطی ایشیائی اور افریقی ممالک نے 26 جون کو عید منائی۔
عید کے موقع پر پاکستان سے ترکمانستان، ہندوستان سے گھانا، ترکی سے سعودی عرب، اور امریکا سے برطانیہ تک مسلمان اپنے مقامی روایات کے مطابق کپڑے پہنتے اور عید مناتے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان عید پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی پہنی ہوئی ملبوسات اور اپنائے گئے فیشن کو سراہا جائے۔
عید پر نہ صرف خواتین بلکہ مرد اور بچے بھی منفرد نظر آنا چاہتے ہیں