Gas Leakage Web ad 1

عید الفطر پر مزے مزے کے پکوان: تھوڑی سی احتیاط کرلیں تو صحت بھی،مزہ بھی

عید الفطر پر مزے مزے کے پکوان: تھوڑی سی احتیاط کرلیں تو صحت بھی،مزہ بھی

0

عیدالفطر مسلمانوں کا انتہائی خوشی اور مسرت کا تہوار ہے۔ اس موقع پر نمازِ عید سے پہلے اور بعد میں ہر گھر میں طرح طرح کی لذیذ ڈشز تیار کی جاتی ہیں جنہیں بچے اور بڑے سب شوق سے کھاتے ہیں۔ میٹھی عید کے موقع پر خاص طور پر میٹھی سویاں، پھینیاں، شیر خرما، سوجی کا حلوہ، کھیر، شاہی ٹکڑے، گلاب جامن اور رس ملائی جیسے پکوان بنائے جاتے ہیں جو سب کو بہت پسند ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک کے روزے، عبادات اور سحری و افطاری کی طرح عیدالفطر کا بھی اپنا الگ لطف ہوتا ہے۔ اس دن ہر طرف خوشیوں کا ماحول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس دن روزہ رکھنے کے بجائے کھانے پینے اور خوشی منانے کی اجازت دی ہے۔ تاہم عید کی خوشیوں کے ساتھ کھانے میں اعتدال رکھنا ضروری ہے، خصوصاً شوگر، بلڈ پریشر، دل کے امراض اور جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو اپنی غذا کا خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ رمضان میں روزوں کی وجہ سے جسم کو آرام ملتا ہے لیکن بعض لوگ عید کے دن حد سے زیادہ کھا کر اپنی صحت کو نقصان پہنچا لیتے ہیں۔ زیادہ کھانا اعصابی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور معدے کی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اچھی صحت کے لیے پرخوری سے بچنا ضروری ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

زکوٰۃ اور فطرانہ میں کیا فرق ہے؟

عید کے موقع پر میٹھی سویاں تقریباً ہر گھر میں بنائی جاتی ہیں جو دودھ، الائچی، پستے، بادام، زعفران اور سویوں سے تیار کی جاتی ہیں اور اکثر چاندی کے ورق سے سجا کر پیش کی جاتی ہیں۔ شیر خرما کھجور اور کاجو کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے جبکہ میٹھی سویوں میں دودھ اور کھویا شامل کیا جاتا ہے جو ذائقے اور غذائیت دونوں کے اعتبار سے بھرپور ہوتی ہیں۔ خشک میوہ جات اور سبز الائچی کی خوشبو ان کا ذائقہ مزید بڑھا دیتی ہے۔ دیسی گھی میں بنی سویاں نہایت لذیذ ہوتی ہیں لیکن ذیابیطس، دل کے مریضوں اور موٹاپے کا شکار افراد کے لیے زیادہ گھی اور چینی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے ایسے افراد کو بغیر بالائی کے دودھ اور مصنوعی مٹھاس کے ساتھ سویاں استعمال کرنی چاہئیں۔ چونکہ دودھ میں کیلشیم اور فاسفورس زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں، اس لیے گردوں کے مریضوں کو اسے محدود مقدار میں لینا چاہیے اور کشمش و کھجور کے استعمال سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔

سوجی کا حلوہ بھی عید کے موقع پر بہت مقبول ہے اور اسے نان، چنے یا پوری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ حلوہ دیسی گھی میں سوجی کو مختلف میوہ جات اور چینی کے ساتھ بھون کر تیار کیا جاتا ہے اور خون کی کمی دور کرنے میں بھی مددگار سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ اس میں سوڈیم کی مقدار کم ہوتی ہے اس لیے گردوں کے مریض بھی اسے کھا سکتے ہیں، جبکہ اس کا گلائیسمک انڈکس کم ہونے کی وجہ سے شوگر کے مریض چینی کے بغیر اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم گلوٹن سے الرجی یا سیلیک بیماری میں مبتلا افراد کو سوجی سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔ اسی طرح جن لوگوں کو دودھ میں موجود لیکٹوز کو ہضم کرنے میں مشکل ہوتی ہے انہیں چاہیے کہ سوجی کو دودھ کے بغیر پکائیں یا اس سے اجتناب کریں۔

عید پر نمکین ڈشز میں چنا چاٹ بھی بہت مقبول ہے جسے آلو، املی کی چٹنی، پیاز، کالی مرچ، شملہ مرچ اور ٹماٹر کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ غذائی اعتبار سے یہ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، صحت مند چکنائی، وٹامنز اور آئرن سے بھرپور غذا ہے جو جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے اور جلد پیٹ بھر دیتی ہے۔ چنے جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول بننے سے بھی روکتے ہیں، تاہم ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو چنا چاٹ میں نمک اور مصالحے کم استعمال کر کے لیموں یا املی کا پانی شامل کرنا چاہیے۔ ڈائیلسز کے مریض محدود مقدار میں ابلے چنے کھا سکتے ہیں لیکن ان میں نمک، دہی یا مصالحے شامل نہیں کرنے چاہئیں۔ رمضان کے بعد معدہ نسبتاً نرم ہو جاتا ہے اس لیے عید کے دن فوری طور پر بہت سخت اور مرغن غذائیں کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

عید کے موقع پر قیمہ، سری پائے، مغز، کلیجی اور زیادہ مصالحہ دار کھانے اکثر دسترخوان کا حصہ بنتے ہیں لیکن ان کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح گوشت بھی متوازن غذا کا اہم حصہ ہے مگر ایک فرد کے لیے روزانہ تقریباً ایک سو گرام گوشت کافی سمجھا جاتا ہے۔ بیف اور مٹن میں کولیسٹرول زیادہ ہوتا ہے جس کا زیادہ استعمال دل کے امراض، بلڈ پریشر، جوڑوں کے درد اور معدے کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے بہتر ہے کہ ہفتے میں صرف دو مرتبہ مٹن یا بیف استعمال کیا جائے جبکہ باقی دنوں میں سبزیوں اور پھلوں کو غذا کا حصہ بنایا جائے۔ چکن بھی پروٹین اور کیلوریز سے بھرپور ہوتا ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال بھی مناسب نہیں۔

عید کی دعوتوں میں بریانی، کباب اور مختلف قسم کے گوشت کے پکوان عام ہوتے ہیں، اس لیے انہیں کم مصالحوں اور مناسب مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ گردوں کے مریض، شوگر کے مریض اور موٹاپے کا شکار افراد کو چاول کم کھانے چاہئیں کیونکہ یہ نشاستے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ باسی چاول کھانے سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ کھانے کی وجہ سے اکثر لوگ بدہضمی، اسہال اور پیٹ درد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے پودینہ، سفید زیرہ، اجوائن، کلونجی اور کالا نمک پیس کر سفوف بنا کر کھانے کے بعد تھوڑی مقدار میں استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ ہاضمہ بہتر رہے، تاہم السر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض اسے اپنے معالج کے مشورے سے استعمال کریں۔

عید پر میٹھے اور مرغن کھانوں کے بعد اکثر لوگ دانت صاف نہیں کرتے جس کی وجہ سے دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے کھانے کے بعد مسواک یا دانتوں کی صفائی کو عادت بنانا چاہیے۔ گوشت کو سبزیوں کے ساتھ پکانا بھی مفید ہے، جیسے کدو یا ٹینڈے شامل کر کے سالن تیار کیا جائے، جو کہ سنت نبوی ﷺ بھی ہے۔ اس کے ساتھ سلاد، اناج اور دہی کا رائتہ بھی ضرور استعمال کرنا چاہیے تاکہ ہاضمہ بہتر رہے۔ گوشت پکاتے وقت عام گھی یا چربی کی بجائے زیتون، سویا بین یا کنولا آئل استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے اور سالن میں زیرہ، الائچی اور دہی شامل کرنے سے یہ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔

رمضان المبارک کے بعد بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں رمضان کی کمی پوری کرنے کے لیے زیادہ کھانا چاہیے، حالانکہ یہ سوچ درست نہیں۔ خوراک میں اعتدال رکھنا ہی صحت کے لیے بہتر ہے۔ عید کے موقع پر اپنی غذا اور صحت کا خیال رکھنا دانشمندی ہے کیونکہ اچھی صحت کے ساتھ ہی زندگی کا حقیقی لطف حاصل کیا جا سکتا ہے اور عید کی خوشیاں بھی بہتر انداز میں منائی جا سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بیماریوں سے محفوظ رکھے اور بیماروں کو کامل اور فوری شفا عطا فرمائے۔ آمین۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.