افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن طالبان کو دہشتگردی کے خاتمےکےاقدامات کرنا ہوں گے: وزیر مملکت

افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن طالبان کو دہشتگردی کے خاتمےکےاقدامات کرنا ہوں گے: وزیر مملکت

0

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے طالبان سے معاملات کو ممکنہ حد تک سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی، جبکہ پاکستان کا واضح مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

اسلام آباد خودکش حملہ، امریکا کا پاکستان کیلئے نیا سکیورٹی الرٹ جاری

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس اعلیٰ سطحی وفود افغانستان کا دورہ کرتے رہے اور پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی روکنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم بدقسمتی سے سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ نہ رک سکا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کسی سفارتی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ افغانستان کی جانب سے سنجیدہ کوششوں کا فقدان رہا، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو سرحد پار سے سہولت کاری ملتی رہی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار دہشت گردی کے باعث ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں، ہر ریاست کو اپنے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق حاصل ہے، اسی لیے پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی نتیجہ خیز بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم افغانستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مثبت اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد طالبان حکومت کی مضبوطی پر خرچ ہو رہی ہے۔

بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن ہماری اولین ترجیح ہے، مختلف آپریشنز کے دوران مارے جانے والے متعدد دہشت گرد افغان شہری تھے، جبکہ ٹی ٹی پی کو افغانستان سے محفوظ ٹھکانے فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغان شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے اور کھلے دل سے افغان بہن بھائیوں کی مدد کی، مگر موجودہ حالات میں یہ سلسلہ جاری رکھنا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغان شہریوں کو مرحلہ وار واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ کوئی بھی ملک بغیر دستاویزات یا رجسٹریشن کے دوسرے ملک کے شہریوں کو نہیں رکھ سکتا۔

وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا کہ پاکستان انسانی بنیادوں پر مدد کے لیے تیار ہے، لیکن افغان حکومت کو دہشت گردی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ افغانستان سے کام کرنے والی 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.