اسلام آباد میں امام بارگاہ خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پشاور میں حملہ آور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، چھاپے کے دوران اس کے دو بھائی اور ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔
نیپرا نے دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کردی
تفتیشی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش بم بار کا شناختی بھی ملا۔ شناختی کارڈ کی بنیاد پر حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔
شناختی کارڈ پر مستقل پتہ عباس کالونی، شیرو جنگی چارسدہ روڈ پشاور درج ہے جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور بتایا گیا ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ خودکش حملہ آور پانچ ماہ افغانستان میں مقیم رہا جہاں اس نے اسلحہ چلانے اور خودکش حملے کی تربیت حاصل کی۔
پولیس نے پشاور اور نوشہرہ میں حملہ آور کے ممکنہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے چھاپوں کا آغاز کر دیا ہے۔ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے جس میں حملہ آور کے رابطوں اور سہولت کاروں کی جانچ کی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران مزید اہم شواہد ملنے کا امکان ہے جو اسلام آباد میں اس دہشت گردی کے واقعے کے پس منظر کو واضح کریں گے۔