وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر محکمہ خوراک نے اسٹریٹجک ذخائر سے ایک لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن گندم کی ریلیز کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والے قیمتوں کے دباؤ سے عوام کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خوراک کی دستیابی کو کسی بھی صوبائی رکاوٹ یا انتظامی حدود کا یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت طلال چوہدری سے مفتی منیب الرحمن کی اہم ملاقات
سہیل آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 151 ملک بھر میں اشیاء کی آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں صوبے کی اوپن مارکیٹ میں 100 کلو گندم کی قیمت 13,650 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومت خیبر پختونخوا نے 10,414 روپے فی 100 کلو کی رعایتی قیمت پر گندم کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔
اس اقدام کے نتیجے میں عوام کو آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 3,020 روپے کے بجائے 2,220 روپے کی رعایتی قیمت پر دستیاب ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ گندم کی ریلیز کا یہ پورا عمل مکمل طور پر شفاف اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہوگا، جس کے مطابق صرف مستحق فلور ملز اور مجاز ڈیلرز کو ہی سرکاری گندم فراہم کی جائے گی تاکہ براہ راست فائدہ عام آدمی تک پہنچ سکے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ مقررہ سرکاری نرخوں پر آٹے کی فروخت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے ضلع و تحصیل کی سطح پر مانیٹرنگ اور فزیکل ویریفکیشن کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر اور سرکاری نرخوں سے تجاوز کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی کیونکہ حکومت ہر حال میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور غریب کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔