Gas Leakage Web ad 1

توشہ خانہ ٹو کیس: 2 اہم گواہان کا بلغاری جیولری سیٹ کی قیمت کم لگانے کا اعتراف

0

بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں دو اہم گواہان کے بیانات سامنے آگئے۔

Gas Leakage Web ad 2

توشہ خانہ ٹو کیس میں دو اہم گواہان میں سابق پرسنل سیکریٹری انعام اللہ شاہ اور پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی شامل ہیں جو عدالت کے روبرو بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں۔

پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی نے سابق وزیر اعظم اور سابق خاتون اوّل کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے تحفے میں ملنے والے بلغاری جیولری سیٹ کی قیمت کم لگانے کا اعتراف کر لیا جبکہ سابق پرسنل سیکریٹری انعام اللہ شاہ نے پرائیویٹ اپریزر پر دباؤ ڈال کر اس کی قدر کم کرنے کا انکشاف کیا۔

 

پرائیویٹ اپریزر نے بیان میں کہا کہ انعام اللہ شاہ نے دباؤ ڈال کر بلغاری جیولری سیٹ کی 50 لاکھ روپے میں ویلیو لگانے کو کہا، سابق پرسنل سیکریٹری نے دھمکی دی کہ ویلیو کم نہ کی تو سرکاری محکموں سے بلیک لسٹ کیا جائے گا۔

صہیب عباسی کے مطابق چیئرمین نیب کے سامنے معافی مانگ کر بیان ریکارڈ کروایا اور دستخط بھی کیے، مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں اعتراف کیا کہ ڈر کے مارے جیولری سیٹ کی قدر کم کر کے رپورٹ دی۔

’23 مئی 2024 کو نیب تفتیشی افسر کے سامنے پیش کیا گیا جہاں معافی کی درخواست جمع کروائی۔ بلغاری جیولری سیٹ کی تشخیص 25 مئی 2022 کو کیبنٹ ڈویژن سیکشن آفیسر نے دی، میں نے اپنی رضامندی سے نیب کے انوسٹیگیشن افسر کو دستاویزات فراہم کیں۔‘

 

سابق پرسنل سیکریٹری نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میں نے صہیب عباسی سے بلغاری جیولری سیٹ کی قدر کم کرنے کو کہا تھا۔

انعام اللہ شاہ نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی اور سرکاری نوکری دونوں سے تنخواہیں وصول کیں، میں 2019 سے 2021 تک ڈبل سیلری وصول کرتا رہا، بشریٰ بی بی کی ناراضی پر نوکری سے برطرف کیا گیا ڈبل سیلری کی شکایت نہیں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کو شک تھا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ میرے بھائی کے تعلقات ہیں، میں وزیر اعظم ہاؤس کے کامپٹرولر کے طور پر بنی گالا ہاؤس میں تعینات تھا، بلغاری جیولری سیٹ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گفٹ کیا تھا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے بلغاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا جبکہ انہوں نے پرائیویٹ اپریزر سے کم قیمت لگا کر اسے اپنے پاس رکھا تھا۔

 

عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے بلغاری جیولری سیٹ پر دائر کیا گیا تھا۔

ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ بشریٰ بی بی کو بلغاری جیولری سیٹ 7 سے 10 مئی 2021 کے دورہ سعودی عرب پردیاگیا، جیولری سیٹ میں ایک انگوٹھی ، بریسلٹ ، نیکلس ، ایک جوڑی بالیاں شامل ہیں۔

ریفرنس میں بتایا گیا تھا کہ شواہدکےمطابق بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ نے غیر قانونی طور پر بلغاری جیولری سیٹ اپنے پاس رکھا، ڈپٹی ایم ایس نے 18 مئی 2021 کوایس او توشہ خانہ کو قیمت کا تخمینہ لگانے کے بارے میں آگاہ کیا، سیکشن افسر توشہ خانہ کو ڈکلیئر کرنے کے بارے میں آگاہ کیا گیا لیکن سیٹ جمع نہیں کرایا گیا۔

ریفرنس میں کہنا تھا کہ بلغاری کمپنی نے فرنچائز سالوجنٹ ٹریڈنگ سعودی عرب کو ہار، بالیاں فروخت کی تھیں، 25 مئی 2018 کو ہار 3 لاکھ یورو، بالیاں 80 ہزار یورو میں فروخت کی گئی تھیں تاہم کمپنی سے بریسلٹ اورانگوٹھی کی قیمت کے بارے میں معلومات نہیں مل سکیں۔

ریفرنس کے مطابق بلغاری جیولری سیٹ کی ٹوٹل قمیت تقریباً 7 کروڑ 56 لاکھ 61 ہزار 600 پاکستانی روپے بنتی ہے، جیولری سیٹ میں شامل ہار کی قیمت 5 کروڑ 64 لاکھ 96 ہزار روپے بنتی ہے جبکہ جیولری سیٹ میں شامل بالیوں کی قیمت 1 کروڑ 50 لاکھ 65 ہزار 600 روپے بنتی ہے۔

نیب کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ رولز کے مطابق 50 فیصد دے کرسیٹ کی قیمت 3 کروڑ 57 لاکھ 65 ہزار 800 روپے بنتی ہے، جیولری سیٹ کی کم قیمت لگوا کر قومی خزانے کو 3 کروڑ 28 لاکھ 51 ہزار 300 روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

ریفرنس میں مزید کہا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے اہلیہ سے ملکرنیب آرڈیننس 1999 کی سیکشن 9، سب سیکشن 3 ،4،6 اور 12 کی خلاف ورزی کی ، یکم اگست 2022 کو بورڈ میٹنگ کے بعد چیئرمین نیب کی ہدایت پرانکوائری شروع ہوئی، بانی پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی نے اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کیا، بانی پی ٹی آئی نے وزارت عظمیٰ کے دور میں 108 تحائف میں سے 58 اپنے پاس رکھے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.