میرے سامنے مغلوں کے پکوانوں کے حوالے سے چار کتابیں موجود ہیں۔ پہلی کتاب امیر تیمور کی خود نوشت ہے۔ اس میں وہ وسط ایشیا کی فتوحات اور اپنے حالات تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ عراق عجم اور فارس پر قبضے کے بعد ان کے پیر قطب القطاب نے انہیں عراق و عرب کو فتح کرنے کی ترغیب دی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی فوج کے ساتھ بغداد پہنچے تو سلطان احمد ان کے خوف سے بھاگ گیا اور بغداد ان کے قبضے میں آگیا۔ اس کے بعد وہ آذربائیجان سے ہوتے ہوئے دشت قبچاق میں داخل ہوئے اور کامیابی حاصل کی۔ پھر ہندوستان کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم بعض امرا نے اس پر تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ اگر ہندوستان کو فتح کر کے وہاں سکونت اختیار کی گئی تو آنے والی نسلیں فوجی تربیت سے دور ہو جائیں گی اور اس طرح سلطنت زوال کا شکار ہو سکتی ہے۔ یہ گفتگو 1395ء کی بتائی جاتی ہے، یعنی مغلیہ سلطنت کے زوال (1857ء) سے تقریباً 457 برس پہلے۔ اس تناظر میں اس مشورے کو ایک دور اندیش تجزیہ قرار دیا جاتا ہے۔
میرے سامنے موجود کتابوں کی ترتیب کچھ اس طرح بنتی ہے کہ یہ ابتدا، وسط اور انجام کی ایک کہانی دکھائی دیتی ہے۔ پہلی کتاب آئین اکبری ہے جو اکبر کے دور (1556ء تا 1605ء) سے متعلق ہے۔ دوسری کتاب نسخہ شاہ جہانی ہے جو شاہ جہاں کے دور (1628ء تا 1658ء) کے کھانوں اور دربار کی تفصیلات بیان کرتی ہے۔ تیسری کتاب بزم آخر ہے جو آخری مغل بادشاہوں اکبر شاہ ثانی (1806ء تا 1837ء) اور بہادر شاہ ظفر (1837ء تا 1857ء) کے لال قلعے میں گزرے حالات کو بیان کرتی ہے۔ اس طرح یہ تینوں کتابیں مغل دور کی ابتدا، عروج اور اختتام کو ظاہر کرتی ہیں۔
ان تینوں کتابوں کے مطالعے سے مغل سلطنت کے تقریباً 450 برسوں کی ایک وسیع تصویر سامنے آتی ہے جس میں مختلف ادوار کے رنگ بکھرے نظر آتے ہیں۔
بابر کے بعد کسی بھی مغل بادشاہ نے یہ خواہش نہیں کی کہ ان کی تدفین سمرقند یا کابل جیسے ٹھنڈے علاقوں میں کی جائے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ برصغیر کا گرم ماحول، وسائل اور اقتدار کی کشش انہیں یہیں بسانے کا باعث بنی۔ اکبر کے بارے میں آئین اکبری میں حیرت انگیز تفصیلات ملتی ہیں جن سے اس دور کی وسعت اور وسائل کا اندازہ ہوتا ہے۔ سلطنت کی آمدنی کا بڑا حصہ فوج، تعمیرات اور خوراک پر خرچ ہوتا تھا، اور دربار کا دسترخوان بے شمار انواع و اقسام کے کھانوں سے بھرا ہوتا تھا۔
آئین اکبری کے مطابق اکبر خود سادہ غذا استعمال کرتے تھے اور کم کھاتے تھے، تاہم شاہی باورچی خانہ انتہائی وسیع تھا جہاں مختلف ممالک کے باورچی کام کرتے تھے۔ روزانہ سینکڑوں دسترخوان تیار کیے جاتے تھے اور کھانوں کی تیاری ایک منظم نظام کے تحت ہوتی تھی۔ کھانے کی تیاری، چکھنے اور تقسیم کے لیے باقاعدہ عہدیدار مقرر تھے۔ کھانے مختلف علاقوں سے منگوائے جاتے اور جانوروں کی پرورش بھی خاص اہتمام سے کی جاتی تھی۔ ہر چیز ایک منظم طریقہ کار کے تحت شاہی دسترخوان تک پہنچتی تھی۔
اس دور میں مصالحوں اور کھانوں کی اقسام بھی انتہائی وسیع تھیں جن میں مقامی اور غیر ملکی اثرات شامل تھے۔ پرتگالیوں کی آمد کے بعد آلو اور مرچ جیسے اجزاء بھی برصغیر کے کھانوں میں شامل ہوئے۔
نوروز جیسے تہوار مغل دربار میں بڑی شان سے منائے جاتے تھے۔ اس موقع پر پورے انتظامات کیے جاتے، حساب کتاب باقاعدہ رکھا جاتا اور مختلف علاقوں سے اجناس منگوائی جاتیں۔ جانوروں اور دیگر اشیاء کی تیاری بھی خاص اہتمام سے کی جاتی تھی۔
مغل دور میں جشن اور تہوار زندگی کا اہم حصہ تھے۔ نوروز اور دیگر تہواروں میں موسیقی، تقاریب، نئے سکے اور رنگا رنگ سرگرمیاں شامل ہوتی تھیں۔ یہ تہوار عوام اور دربار دونوں میں یکساں اہمیت رکھتے تھے۔
مغربی اور شمالی خطوں سے آنے والے مغلوں کے لیے برصغیر کا ماحول مختلف تھا، لیکن یہاں کی زرخیزی اور وسائل نے انہیں یہیں بسا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تہوار بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا تھا۔
تاریخی حوالوں کے مطابق کبھی کبھار عید اور دیگر تہوار ایک ساتھ آ جاتے تھے جس سے جشن کا دورانیہ بڑھ جاتا تھا۔ اس دوران مختلف مسافر اور سیاح دربار کے تہواروں کا مشاہدہ کرتے تھے اور ان کی تفصیلات اپنے سفرناموں میں درج کرتے تھے۔
مغلیہ دور میں شاہی باورچی خانہ ایک پورے نظام کی شکل اختیار کر چکا تھا جس کے ساتھ ایک مکمل قافلہ چلتا تھا تاکہ بادشاہ کو ہر جگہ تازہ خوراک فراہم کی جا سکے۔
شاہ جہاں کے دور کو خوراک اور تہذیب کا عروج سمجھا جاتا ہے۔ اس دور میں پرتگالی اثرات بھی شامل ہوئے اور نئے پکوان دربار کی زینت بنے۔ شاہی دعوتیں طویل اور پرتکلف ہوتی تھیں جن میں اعلیٰ حکام اور مہمان شریک ہوتے تھے۔
مغلیہ دور کے آخری زمانے میں حالات بدل چکے تھے اور دربار کی شان و شوکت کم ہو رہی تھی، جس کا ذکر مختلف تاریخی تحریروں میں ملتا ہے۔
مغلیہ دسترخوان کی ایک بڑی خصوصیت اس کی وسعت اور تنوع تھی جس میں سینکڑوں اقسام کے کھانے شامل تھے۔ مختلف اقسام کی روٹیاں، پلاؤ، قورمہ، کباب، مٹھائیاں اور مشروبات دسترخوان کی زینت بنتے تھے۔ ہر کھانے کی تیاری اور پیشکش ایک باقاعدہ نظام کے تحت ہوتی تھی۔
اس پورے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مغل سلطنت میں خوراک، تہوار اور اقتدار ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے تھے اور یہی عناصر اس دور کی تہذیبی شناخت تشکیل دیتے تھے۔
حوالہ جات
’تزک تیموری‘۔ ترجمہ: سید ابوالہاشم ندوی۔ 2017ء۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور
’آئین اکبری‘ ۔ علامہ ابوالفضل ۔ 2015ء۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور
’نسخہ شاہ جہانی‘۔ترجمہ: سید محمد فیض اللہ۔ 1956ء۔ مدراس
’بزم آخر‘۔مُنشی فیض الدین دہلوی۔ 1885ء۔ دہلی