Gas Leakage Web ad 1

میرے گھر کے کچن اور جنریٹر تک میں کرپشن ڈھونڈی جا رہی ہے، مولانا فضل الرحمان

0

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فاٹا انضمام اور قبائلی علاقوں کی موجودہ انتظامی صورت حال پر ان کے تحفظات کا جواب دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کا جواب الزام تراشی اور کردار کشی کے بجائے دلیل سے دیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض لوگ ان کے گھر کے کچن اور جنریٹر تک میں کرپشن تلاش کر رہے ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

پشاور میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا اینڈ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاسی ماحول کو الزام تراشی اور کردار کشی سے پراگندہ کرنے کے بجائے اختلافِ رائے کا جواب دیا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام اور سیاسی رہنماؤں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات اور خدشات دور کرے۔

مولانا فضل الرحمان نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں اعلیٰ سطح کی شخصیات نے براہ راست بتایا ہے کہ انضمام کا فیصلہ غلط تھا اور اب اسے ختم کرکے قبائلی علاقوں کی سابقہ انتظامی حیثیت بحال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بقول ماضی میں انضمام کا فیصلہ ایک بڑی قوت کے کہنے پر کیا گیا تھا اور اب قبائلی علاقوں کو دوبارہ وفاق کے زیر انتظام لانے کی تجاویز کے پیچھے بھی کسی بڑی طاقت کا مفاد کارفرما ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فاٹا کے سیاسی مستقبل اور عوام کے آئینی حقوق کا معاملہ تھا، تاہم موجودہ صورت حال مختلف ہے اور اب بنیادی مسئلہ قبائلی علاقوں کے وسائل اور معیشت کا ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ انضمام کے بعد دس سال گزرنے کے باوجود وہاں بندوبستی نظام مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا، قانون گو اور پٹواری کا نظام نہیں گیا، پرانی جائیدادوں کی تقسیم کا مسئلہ حل نہیں ہوا اور پولیس کا نظام بھی منظم نہیں کیا جا سکا۔

ان کے مطابق ماضی کے فیصلوں کا جائزہ اس وقت کے حالات کے تناظر میں اور موجودہ مسائل کا حل آج کی ضروریات کو سامنے رکھ کر تلاش کیا جانا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی کے نفاذ اور انتظامی اختیارات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے معاملات براہ راست وزارت داخلہ کے پاس ہیں، جب کہ گورنر راج کے حوالے سے بھی وزیراعظم کے براہ راست کردار کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق روزمرہ معاملات کی نگرانی اور ہدایات کے لیے ایک کونسل بھی قائم کی گئی ہے، اس صورت حال میں گورنر کے کردار سے متعلق وضاحت ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو ان کے معاشی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے وسائل اور ٹیکنالوجی رکھنے والے فریقوں کے درمیان کھلے معاہدوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں کے وسائل کو وہاں کے عوام کی امانت سمجھا جانا چاہیے۔

اپنے خلاف ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کے بقول ان کے علما اور کارکنوں سے رابطے کرکے ان کے خلاف بیانات دینے کے لیے کہا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض لوگ ان کے گھر کے کچن اور جنریٹر تک کے معاملات میں کرپشن تلاش کر رہے ہیں۔ اس طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے میں بھی شائستگی اور سلیقہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ وضع دار انسان ہیں اور جو لوگ ان کے گھر آتے ہیں، انہیں آج بھی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ذاتی الزامات اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو اپنے سوالات کا جواب قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دلائل اور خدشات سیاسی مکالمے کے ذریعے پیش کرتے رہیں گے۔

خواجہ آصف سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ ان کے بڑے بھائی اور قابلِ احترام ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خواجہ آصف کی صرف گدگدی کی تھی، تاہم ان کا اصل غصہ اگلے روز سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی سیاسی جدوجہد اور اختلافِ رائے کو ذاتی مسئلہ نہ سمجھا جائے۔ افغانستان جانے کے مشوروں پر ردعمل دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کا کسی سے ذاتی جھگڑا نہیں اور وہ پاکستان کے شہری کی حیثیت سے اپنے سوالات کے جواب چاہتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج کے آئینی جواز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر اس اقدام کے لیے آئین کی متعلقہ شقوں کا حوالہ دیا جا رہا ہے تو آرٹیکل 232 اور 234 کی وضاحت بھی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی تبدیلی کے بھی آئینی طریقے ہوتے ہیں اور سیاسی معاملات کو آئینی دائرے میں رہ کر حل کیا جانا چاہیے۔

جے یو آئی سربراہ نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں اپنے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران بھی ان کے بعض مطالبات اور طریقہ کار پر ان کے تحفظات تھے۔

ان کے مطابق بعد ازاں حکومتی وفد نے ان سے رابطہ کیا اور وزیراعظم کی جانب سے ملاقات کی دعوت بھی دی گئی، تاہم انہوں نے خفیہ ملاقات کے بجائے متعلقہ فریقوں کے ساتھ کھلے مکالمے پر اصرار کیا۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق وزیراعظم نے انہیں مسئلے کے حل کے لیے ایک تجویز دی، جس پر انہوں نے پی ٹی آئی قیادت سے بات کی اور اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر اس معاملے پر اتفاقِ رائے کی امید پیدا ہوئی، تاہم بعد میں انہیں اسحاق ڈار کا فون آیا کہ کابینہ ان تجاویز سے اتفاق نہیں کر رہی، جس کے بعد گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات میں وعدوں اور بات چیت کی اہمیت ہوتی ہے اور جھوٹے بیانیوں سے سیاست نہیں چل سکتی۔

مولانا فضل الرحمان نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ جمعیت علمائے اسلام دہشت گردی کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کو آزادانہ کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور وہ ایک صحت مند سیاسی ماحول کے خواہاں ہیں۔

خطاب کے اختتام پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کو دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے سیاسی راستے سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ ان کے بقول جماعت کے کارکن ایسے ہتھکنڈوں سے متاثر نہیں ہوں گے اور اختلافات کا جواب سیاسی اور جمہوری انداز میں دیا جانا چاہیے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.