پشاور: دیر کالونی میں تین منزلہ نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں 34 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر سمیت 35 افراد جاں بحق جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حادثے کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے امدادی کارروائیاں مکمل کرتے ہوئے ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آیا، جہاں اسکول کی چھت گرنے سے متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 33 لاشیں جبکہ نصیراللہ بابر میموریل اسپتال میں 2 لاشیں لائی گئیں۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 7 سے 13 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا پولیس شہداء، زخمی اہلکاروں اور خاندانوں کے لیے تاریخی ریلیف پیکج، معاوضوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ
سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق واقعے میں 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ پولیس نے اسکول کے مالک اور پرنسپل کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسکول کے قیام اور عمارت کی صورتحال سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کا مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسکول کی عمارت تین منزلہ تھی۔ حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جو چھت گرنے کے اسباب کا جائزہ لے گی۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکالنے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اسکول کی عمارت کا تکنیکی معائنہ نہیں کیا گیا تھا۔ نجی اسکول مارچ 2026 میں پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایس آر اے) کے ساتھ رجسٹرڈ ہوا تھا، تاہم خستہ حال عمارت کے باوجود اسے رجسٹریشن دی گئی۔
ایم ڈی خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی جاوید اقبال نے بتایا کہ ادارے کے پاس عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرنے والی ٹیم موجود نہیں۔ ان کے مطابق اسکول کو کلاس رومز اور دیگر انتظامی معیار پورا کرنے پر رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کو خستہ حال عمارتوں پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم اسکول بند کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔



