Gas Leakage Web ad 1

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا پولیس شہداء، زخمی اہلکاروں اور خاندانوں کے لیے تاریخی ریلیف پیکج، معاوضوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ

0

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پولیس کے شہداء، زخمی اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے معاوضوں اور مراعات میں نمایاں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کا اعتراف اور ان کے خاندانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے گورنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں مزید بہتری لائی جائے، تاکہ صوبے کے پولیس اہلکاروں کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر مالی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف
نئے شہداء پیکج کے تحت کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے اہلکاروں کے لیے معاوضہ 1 کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ 70 لاکھ روپے، ڈی ایس پی اور اے ایس پی کے لیے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے، گریڈ 18 اور 19 کے افسران کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے، جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے رہائشی سہولتوں کے حوالے سے بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ اب پلاٹ کی فراہمی کے بجائے براہِ راست مالی معاونت دی جائے گی۔ کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے اہلکاروں کے ورثاء کو 1 کروڑ 80 لاکھ روپے، ڈی ایس پی اور اے ایس پی کے ورثاء کو 2 کروڑ 50 لاکھ روپے، گریڈ 18 اور 19 کے افسران کے ورثاء کو 3 کروڑ 50 لاکھ روپے، جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کے ورثاء کو 7 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے ورثاء کو پلاٹ کی الاٹمنٹ کا انتظار کیے بغیر اپنی مرضی کے مطابق گھر خریدنے یا تعمیر کرنے میں سہولت ملے گی۔

زخمی پولیس اہلکاروں کے معاوضوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ دورانِ ڈیوٹی مستقل معذوری کی صورت میں معاوضہ 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے، جبکہ ڈیوٹی کے دوران زخمی ہونے والے اہلکاروں کے لیے مالی امداد 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

پولیس اہلکاروں کے قریبی اہلِ خانہ کی وفات کی صورت میں بھی خصوصی مالی معاونت کا اعلان کیا گیا ہے۔ شریکِ حیات یا بچوں کی وفات پر 50 لاکھ روپے، جبکہ والد، والدہ، بھائی یا بہن کی وفات پر 30 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ شہداء کی بیٹیوں کی شادی کے لیے 10 لاکھ روپے کی خصوصی مالی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔ شہداء کے بچوں کی تعلیم کے لیے معاونت اور کارپوریٹ اداروں و بینکوں کے تعاون سے فلاحی اقدامات کے لیے مربوط نظام قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

پولیس فورس پر کام کا دباؤ کم کرنے اور عوام کے تحفظ کے لیے مطلوبہ افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے خالی آسامیوں پر بھرتیوں پر بھی زور دیا گیا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا کے مطابق پولیس کے شہداء اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ زخمی اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو بہتر مالی تحفظ فراہم کرنا بھی ان اقدامات کا اہم مقصد ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.