اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرنا پارلیمان کا اختیار ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ جب کسی صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو اور صوبہ بدامنی کا شکار ہو تو سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ریاست کو ترجیح دینا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ چار ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف
وزیر قانون کے مطابق اکتوبر 2025 تک صوبے میں دہشت گردی کے 3 ہزار 700 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم سنگین سیکیورٹی صورتحال کے باوجود خیبرپختونخوا میں فارنزک لیبارٹری موجود نہیں، جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا ڈھانچہ بھی مکمل نہیں ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی توجہ صوبائی امور کے بجائے سیاست پر مرکوز رہی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر کسی صوبے کے معاملات آئینی طریقہ کار سے ہٹ کر چلائے جا رہے ہوں تو گورنر اس حوالے سے صدر مملکت کو تحریری طور پر آگاہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق صدر مملکت نے صورتحال کا جائزہ لینے اور اطمینان کرنے کے بعد وزیراعظم کی ایڈوائس کی منظوری دی۔



