انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ایک کے ڈیوٹی جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ ضمانت کی درخواستیں ابوالحسنات صاحب ہی سنیں گے۔ جج نے استفسار کیا کہ کیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے کل ملاقات ہوگئی تھی؟ اس پر شیریں مزاری نے کہا کہ انہیں بہت زیادہ تنگ کیا جاتا ہے، جس کے بعد ملاقات کرائی جاتی ہے۔
پاکستان کی شام میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت، مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ
وکیل صفائی ریاست آزاد نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت پرسوں کے لیے مقرر کی جائے۔
اس پر جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ جج صاحب پرسوں نہیں آئیں گے، ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت وکلا کو اتنا ریلیف تو دے کہ وہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہوں۔
جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ جج صاحب پرسوں موجود نہیں ہوں گے اور وہ 19 اکتوبر کو واپس آکر کیس کی سماعت کریں گے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا نے سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، تاہم عدالت نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کردی۔



