وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لانگ مارچ کے بعد مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے کیوں نہیں کرتے۔
پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ‘کھودا پہاڑ نکلا چوہا’ ثابت ہوا، عطا تارڑ
پشاور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت سات دن میں مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو افہام و تفہیم کے ذریعے کرلے، ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ حل ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں تاخیر بھی حکمت عملی کا حصہ ہے، سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ کچھ وقت دیا جائے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم نے لانگ مارچ کی کال سے پہلے ہی مذاکرات کی بات کی تھی، 4 اکتوبر کو مارچ کا فیصلہ اٹل ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان ہمارے پاس آجائیں تو انہیں خوش آمدید کہیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے لیے وزارت اعلیٰ کی کرسی سے گیا بھی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، اگر مجھے نااہل کیا گیا تو میرا متبادل بانی پی ٹی آئی ہی طے کریں گے۔