Gas Leakage Web ad 1

آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کیس سپریم کورٹ سےمنتقل کرنے کا حکم دے دیا

0

قیدیوں کی بانی پی ٹی آئی کی طرز پر نجی اسپتال سے علاج کی درخواستوں پر وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس سپریم کورٹ سے منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

Gas Leakage Web ad 2

وفاقی آئینی عدالت میں قیدیوں کی بانی پی ٹی آئی کی طرز پر نجی اسپتال سے علاج کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان بھی معاونت کے لیے عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی سے متعلق کیس سپریم کورٹ سے منتقل کرنے کا حکم دے دیا، جس کے بعد سپریم کورٹ اب یہ کیس نہیں سن سکے گی۔ اس کے علاوہ عدالت نے حکومت کی نظرثانی اور توہین عدالت کی درخواستیں بھی منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
5 سال مسلسل کنٹریکٹ سروس کے بعد ریگولر ملازم پنشن کا حقدار قرار
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بانی پی ٹی آئی کا کیس وفاقی آئینی عدالت منتقل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے کیس کا ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے تین قیدیوں کی درخواستیں باضابطہ سماعت کے لیے منظور کر لیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی جانب سے اٹھائے گئے نکات قابل غور ہیں، کسی بھی ہائیکورٹ میں اس نوعیت کا کوئی کیس زیر التوا ہو تو اس کا ریکارڈ بھی بھجوایا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 175 ای کی ذیلی شق 5 کے تحت کسی بھی عدالت کا ریکارڈ منگوایا جا سکتا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ آئین و قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر برابر ہونا چاہیے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اعتراض اٹھایا تھا، تاہم ہمیں نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا گیا۔

جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں کرنا چاہیے تھا؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل ایسے ہی ہے، آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ کا حکم تو ابھی عبوری ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اصل سوال اختیار سماعت کا ہے، سوال یہ ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق کا کیس اب کون سن سکتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.