Gas Leakage Web ad 1

نوجوان نسل: موبائل کی اسکرین سے مستقبل کی دنیا تک

0

پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے پہاڑ، دریا، زمین یا قدرتی وسائل ہی نہیں، بلکہ اس کی نوجوان آبادی بھی ہے۔ لاکھوں نوجوان ایسے ہیں جو ہر روز تعلیم حاصل کررہے ہیں، ہنر سیکھ رہے ہیں، ملازمت تلاش کررہے ہیں، کاروبار کے خواب دیکھ رہے ہیں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا سے رابطہ قائم کررہے ہیں۔
لیکن نوجوان آبادی خود بخود قومی طاقت نہیں بنتی۔ اسے تعلیم، ہنر، مواقع، تربیت اور درست سمت درکار ہوتی ہے۔
آج کا نوجوان پہلے کی نسلوں سے مختلف ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، سامنے انٹرنیٹ کی دنیا ہے اور چند لمحوں میں وہ دنیا کے کسی بھی حصے سے معلومات حاصل کرسکتا ہے۔ ایک چھوٹے شہر کا طالب علم وہ لیکچر سن سکتا ہے جو کسی بڑے عالمی ادارے کا پروفیسر دے رہا ہو۔ ایک فری لانسر اپنے گھر بیٹھ کر بیرون ملک کلائنٹ کے لیے کام کرسکتا ہے۔ ایک نوجوان اپنے بنائے ہوئے ڈیزائن، ویڈیو، سافٹ ویئر یا مصنوعات کو عالمی مارکیٹ تک پہنچا سکتا ہے۔
یہ انسانی تاریخ میں ایک غیر معمولی تبدیلی ہے۔
لیکن ہر طاقت کی طرح ٹیکنالوجی کے بھی دو رخ ہیں۔
موبائل فون علم کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے اور وقت ضائع کرنے کا سب سے بڑا وسیلہ بھی۔ ایک نوجوان اسی اسکرین پر پروگرامنگ سیکھ سکتا ہے اور اسی پر کئی گھنٹے بغیر مقصد کے ویڈیوز دیکھ سکتا ہے۔ وہ آن لائن کاروبار شروع کرسکتا ہے یا مسلسل دوسروں کی زندگی دیکھتے ہوئے اپنی زندگی سے مایوس بھی ہوسکتا ہے۔
اصل مسئلہ موبائل نہیں، مقصد ہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو موبائل فون سے دور کرنے کے بجائے اسے درست مقصد کے لیے استعمال کرنا سکھانا ہوگا۔
تعلیم کے میدان میں بھی بڑی تبدیلی ضروری ہے۔ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا، سافٹ ویئر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور نئی ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ نوجوان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی ڈگری عملی زندگی میں کس مسئلے کو حل کرسکتی ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ہر نوجوان کمپیوٹر سائنس پڑھے۔ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، صحافی، وکیل، زراعت کے ماہر، ڈیزائنر، تاجر اور ہنرمند سب معاشرے کے لیے ضروری ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر شعبے میں نوجوان کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنایا جائے۔
پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے خواب اور دستیاب مواقع کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے۔
ایک نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے مگر ملازمت نہیں ملتی۔ دوسرا ہنر سیکھ لیتا ہے مگر مارکیٹ تک رسائی نہیں ہوتی۔ تیسرا کاروبار کرنا چاہتا ہے مگر سرمایہ اور رہنمائی دستیاب نہیں ہوتی۔ چوتھا بیرون ملک کام کرنا چاہتا ہے مگر اپنی صلاحیت کو عالمی معیار کے مطابق پیش کرنے کا طریقہ نہیں جانتا۔
یہاں حکومت، تعلیمی اداروں، صنعت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
نوجوان پالیسی کا مطلب صرف سرکاری ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں نوجوان کو روزگار تلاش کرنے والے سے روزگار پیدا کرنے والے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔
فری لانسنگ، ای کامرس، سافٹ ویئر، ڈیجیٹل میڈیا، آن لائن تعلیم، جدید زراعت، فوڈ بزنس، چھوٹی صنعتیں اور تخلیقی شعبے ایسے میدان ہیں جہاں کم سرمایہ رکھنے والا نوجوان بھی اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔
لیکن اس کے لیے صرف موٹیویشنل تقریریں کافی نہیں۔
نوجوان کو عملی تربیت چاہیے۔ اسے یہ سیکھنا ہوگا کہ کاروباری آئیڈیا کیسے بنایا جاتا ہے، گاہک کیسے تلاش کیا جاتا ہے، قیمت کیسے مقرر کی جاتی ہے، آن لائن ادائیگی کیسے حاصل کی جاتی ہے، ٹیکس اور حساب کتاب کیسے رکھا جاتا ہے اور اپنی صلاحیت کو عالمی مارکیٹ میں کیسے پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ والدین نوجوانوں کو صرف نمبر اور ڈگری کی بنیاد پر نہ پرکھیں۔ بچے سے یہ پوچھنا بھی چاہیے کہ وہ کیا سیکھ رہا ہے، کیا بنانا چاہتا ہے اور اپنی صلاحیت کو کس طرح استعمال کرنا چاہتا ہے۔
اسی طرح استاد کا کردار بھی بدل رہا ہے۔ آج طالب علم کے پاس معلومات کی کمی نہیں۔ اصل ضرورت یہ سکھانے کی ہے کہ صحیح معلومات اور غلط معلومات میں فرق کیسے کیا جائے، سوال کیسے پوچھا جائے، تحقیق کیسے کی جائے اور معلومات کو عملی مسئلے کے حل میں کیسے استعمال کیا جائے۔
سوشل میڈیا نے نوجوانوں کے سامنے ایک اور چیلنج کھڑا کیا ہے۔ آن لائن دنیا میں دوسروں کی کامیابیاں دیکھ کر انسان اپنی زندگی کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن ہر نظر آنے والی کامیابی کے پیچھے ایک مکمل کہانی نہیں ہوتی۔ نوجوان کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ زندگی ’’لائکس‘‘ اور ’’فالورز‘‘ سے نہیں بلکہ کردار، علم، ہنر اور حقیقی کامیابی سے بنتی ہے۔
پاکستان کا مستقبل اس بات سے طے ہوگا کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو کس قدر بااختیار بناتے ہیں۔
ہم انہیں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’نوکری تلاش کرو‘‘۔
یا ہم انہیں یہ سکھا سکتے ہیں کہ:
’’مسئلہ تلاش کرو، اس کا حل پیدا کرو، اپنی صلاحیت کو ہنر میں بدلو اور پھر اس ہنر کو دنیا کے سامنے پیش کرنا سیکھو۔‘‘
فرق صرف چند الفاظ کا ہے، مگر اسی فرق سے ایک معاشرہ صارف سے تخلیق کار بن سکتا ہے۔
آج نوجوان کے ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ اسی ہاتھ میں کتاب بھی ہوسکتی ہے، قلم بھی، کی بورڈ بھی، کیمرہ بھی اور کاروبار بھی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہماری نوجوان نسل موبائل کتنا استعمال کرتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے مستقبل بنانے کا ہنر کتنا سکھایا ہے؟

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.