Gas Leakage Web ad 1

نقدی سے کیو آر تک، پاکستان کی بدلتی ہوئی معیشت

0

کبھی بازار میں خریداری کے لیے جیب میں موجود نقد رقم ہی سب سے بڑی ضرورت سمجھی جاتی تھی۔ دکاندار کے پاس نوٹوں کی گڈی، گاہک کے ہاتھ میں بٹوا اور ہر لین دین کے بعد بقایا رقم گننے کا ایک معمول تھا۔ چھوٹے سے چھوٹے کاروبار میں بھی دن کے اختتام پر میز پر نوٹ پھیلائے جاتے، انہیں گنا جاتا اور پھر اگلے دن کے کاروبار کے لیے محفوظ کرلیا جاتا۔ مگر آج یہ منظر تیزی سے بدل رہا ہے۔ موبائل فون نے بٹوے کی جگہ لینا شروع کردی ہے اور ایک چھوٹا سا کیو آر کوڈ کئی مرتبہ نقد رقم سے زیادہ طاقتور ذریعۂ ادائیگی بن چکا ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگی کا رجحان کوئی اچانک آنے والی تبدیلی نہیں، لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس کی رفتار ضرور تیز ہوئی ہے۔ جو سہولت کبھی صرف بڑے شہروں، آن لائن خریداری اور بینک اکاؤنٹ رکھنے والے طبقے تک محدود تھی، اب چھوٹی دکانوں، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، فری لانسنگ، گھریلو کاروبار اور عام صارف تک پہنچ رہی ہے۔
اس تبدیلی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ایک بڑی تعداد روایتی بینکاری نظام سے مکمل طور پر منسلک نہیں، موبائل فون نے مالی معاملات کے لیے ایک نیا راستہ پیدا کیا ہے۔ ایک شخص کے پاس باقاعدہ دفتر نہ ہو، دکان نہ ہو، حتیٰ کہ بینک کی قریبی شاخ بھی نہ ہو، لیکن اگر اس کے پاس موبائل فون اور ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہے تو وہ رقم وصول اور منتقل کرسکتا ہے۔
یہ تبدیلی صرف سہولت نہیں بلکہ معاشی رویے میں تبدیلی بھی ہے۔
ایک دکاندار اگر روزانہ کی وصولیاں ڈیجیٹل طریقے سے حاصل کرتا ہے تو اس کے پاس لین دین کا ریکارڈ موجود رہتا ہے۔ ایک فری لانسر بیرون ملک سے رقم وصول کرنے کے لیے نسبتاً آسان راستہ اختیار کرسکتا ہے۔ ایک طالب علم اپنے گھر سے دور رہتے ہوئے والدین سے فوری رقم حاصل کرسکتا ہے۔ ایک چھوٹا کاروباری شخص اپنے سپلائر کو چند سیکنڈ میں ادائیگی کرسکتا ہے۔
یہ سب کچھ چند سال پہلے اتنا آسان نہیں تھا۔
لیکن ہر نئی سہولت کے ساتھ نئے خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت میں سب سے بڑا سوال اعتماد کا ہے۔ اگر کسی شہری کے اکاؤنٹ سے رقم غائب ہوجائے، غلط شخص کو منتقل ہوجائے یا کسی فراڈ کے ذریعے اس کی معلومات حاصل کرلی جائیں تو عام صارف کے لیے یہ نقصان بہت بڑا ہوسکتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگی صرف موبائل ایپ کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے سائبر سکیورٹی، صارف کا تحفظ، شکایات کے فوری ازالے، ڈیٹا کی حفاظت اور مالی خواندگی کا مکمل نظام موجود ہونا چاہیے۔
خاص طور پر بزرگ شہریوں اور کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے یہ تبدیلی ایک چیلنج ہے۔ جو شخص پوری زندگی نقد رقم سے لین دین کرتا آیا ہو، اس کے لیے پن، او ٹی پی، پاس ورڈ، کیو آر کوڈ اور مختلف ایپس کا استعمال آسان نہیں۔ اگر اسے مناسب تربیت نہ دی جائے تو وہ ڈیجیٹل نظام سے فائدہ اٹھانے کے بجائے فراڈ کا شکار ہوسکتا ہے۔
یہاں خاندان اور معاشرے کا کردار بھی اہم ہے۔ نوجوان نسل ٹیکنالوجی کو نسبتاً آسانی سے سمجھ لیتی ہے، اس لیے اسے اپنے والدین اور بزرگوں کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ ایک موبائل فون استعمال کرنا سکھانا معمولی بات محسوس ہوسکتی ہے، لیکن کسی بزرگ کو محفوظ ڈیجیٹل لین دین سکھانا دراصل اسے معاشی طور پر زیادہ خودمختار بنانا ہے۔
دوسری طرف حکومت اور مالیاتی اداروں کے لیے بھی یہ ایک بڑا موقع ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ لین دین ڈیجیٹل ریکارڈ میں آنے لگے تو معیشت کی دستاویز بندی بہتر ہوسکتی ہے۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں تک رسائی آسان ہوسکتی ہے، کاروباری سرگرمیوں کا درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور معاشی منصوبہ بندی کے لیے بہتر اعدادوشمار دستیاب ہوسکتے ہیں۔
تاہم یہاں احتیاط ضروری ہے۔ ڈیجیٹل معیشت کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر لین دین حکومت کی نظر میں آجائے۔ اگر شہری کو یہ محسوس ہو کہ ڈیجیٹل ادائیگی کا مطلب صرف نگرانی اور ٹیکس کا خوف ہے تو وہ دوبارہ نقد رقم کی طرف جاسکتا ہے۔ اس لیے اعتماد کا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کی نوجوان آبادی اس تبدیلی کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ فری لانسنگ، ای کامرس، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سافٹ ویئر اور چھوٹے آن لائن کاروبار پہلے ہی ہزاروں نوجوانوں کے لیے آمدنی کے نئے راستے پیدا کررہے ہیں۔ اگر ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام تیز، سستا اور محفوظ ہوجائے تو پاکستان کا نوجوان مقامی مارکیٹ سے نکل کر عالمی معیشت کا حصہ بن سکتا ہے۔
آنے والے برسوں میں شاید دکان پر سب سے عام سوال یہ نہ ہو کہ ’’آپ کے پاس کھلے پیسے ہیں؟‘‘ بلکہ یہ ہوگا کہ ’’کیو آر کہاں ہے؟‘‘
لیکن اصل کامیابی اس دن ہوگی جب پاکستان صرف کیش لیس نہیں بلکہ محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل معیشت بن جائے گا۔
ٹیکنالوجی نے دروازہ کھول دیا ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ اس دروازے سے صرف موبائل فون داخل ہوگا یا ایک نئی معاشی سوچ بھی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.