پاکستان کے میدانی علاقوں میں ہر سال موسم گرما کی دو سے ڈھائی ماہ کی چھٹیاں ہوتی ہیں اس حوالے سے وزیر تعلیم کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔
اس وقت ملک بھر کے میدانی علاقے شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ گرمی اپنے جوبن پر آ رہی ہے اور کئی شہروں میں تو ہیٹ ویو الرٹ بھی جاری ہیں۔
ملک بھر کے میدانی علاقوں میں موسم گرما کی دو سے ڈھائی ماہ کی تعطیلات ہوتی ہیں۔ تاہم اس بار تعلیمی نقصانات کے ازالے کے لیے تعلیمی کلینڈر کو بڑھانے اور چھٹیوں میں تخیف کے بارے میں غور کر رہی ہے۔
یہ خبریں آنے کے بعد پنجاب بھر میں والدین اور طلبہ گرمیوں کی چھٹیوں کے حوالے سے حکومتی اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔
تاہم اب اس حوالے سے پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا نیا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے تصدیق کی کہ پنجاب کے سکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تین سے چار مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ صوبائی حکومت اس سال گرمیوں کی چھٹیوں میں 15 سے 20 دن کی کمی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
تاہم رانا سکندر حیات نے 2026 کی گرمیوں کی تعطیلات کے بارے میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے حوالے سے واضح کیا کہ مئی کے بعد تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
ان کے اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ رواں برس موسم گرما کی سابقہ چھٹیوں کے شیڈول پر عملدرآمد ہوگا اور کسی بھی نئے شیڈول پر اگلے تعلیمی سال سے عملدرآمد ہو سکتا ہے۔