برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایک کمپنی نے بین الاقوامی سپلائرز سے تقریباً 140,000 مکعب میٹر کے تین ایل این جی کارگو کے لیے بولیاں طلب کی ہیں، جن کی ترسیل 27 سے 30 اپریل، یکم سے 7 مئی اور 8 سے 14 مئی کے درمیان کراچی کی بن قاسم بندرگاہ پر متوقع ہے، جبکہ اس ٹینڈر کی آخری تاریخ 24 اپریل مقرر کی گئی ہے۔
موجودہ علاقائی صورتحال میں بروقت اقدامات سےتوانائی بحران پیدا نہیں ہوا: وزیراعظم
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق اس ٹینڈر کا مقصد بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور مہنگے ڈیزل اور فرنس آئل پر انحصار کم کرنا ہے، تاہم حکومت کو اس بات کا یقین نہیں کہ قطر سے مزید ایل این جی کارگو کب موصول ہوں گے۔
یہ پیش رفت حالیہ بجلی کی قلت کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ دیکھی گئی۔ ہائیڈرو پاور میں کمی اور ایل این جی کی سپلائی میں خلل نے بڑھتی ہوئی طلب کے دوران ایندھن کی کمی کو مزید واضح کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد کوئی ایل این جی کارگو موصول نہیں ہوا، کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تقریباً تمام شپنگ بند کر دی ہے، جو خلیج کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ قطر اپنی توانائی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے، اور گزشتہ سال پاکستان کی 6.64 ملین میٹرک ٹن ایل این جی درآمدات کا بڑا حصہ بھی قطر سے حاصل ہوا تھا۔
آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی سوکار نے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد کی درخواست پر فوری طور پر ایل این جی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ 2025 میں سوکار ٹریڈنگ اور پاکستان ایل این جی کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت تیز تر طریقہ کار کے ذریعے خریداری ممکن ہے۔
پاکستان نے 27-2026 کے لیے ای این آئی کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کے تحت 21 ایل این جی کارگو منسوخ کر دیے تھے، کیونکہ توقع تھی کہ طلب میں کمی آئے گی اور شمسی توانائی سے بجلی کی فراہمی بڑھ جائے گی، تاہم حالیہ سپلائی مسائل نے اس حکمت عملی کو دوبارہ چیلنج کر دیا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق اگرچہ مقامی اور قابلِ تجدید توانائی پر بڑھتے انحصار نے کچھ حد تک دباؤ کم کیا ہے، لیکن پاکستان اب بھی سپلائی جھٹکوں کے لیے حساس ہے، اور گرمیوں میں زیادہ طلب کے دوران لوڈشیڈنگ سے بچنے کے لیے ایل این جی انتہائی اہم ہے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث ایشیائی سپاٹ قیمتیں تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ آبنائے جنگ سے قبل عالمی ایل این جی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد سنبھالتی تھی۔ ماہرین کے مطابق عالمی ایل این جی سپلائی کے اندازوں میں کمی کی گئی ہے اور توقع ہے کہ بلند قیمتیں اور ممکنہ قلت ایشیا بھر میں طلب میں کمی کا باعث بنیں گی۔