سرگودھا شرمپ سٹیٹ میں اہم پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں 126 میں سے 118 تالابوں کی کھدائی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ ان میں سے 92 فیصد کے پشتے بھی تیار ہو چکے ہیں۔ 116 ٹیوب ویلز کی بورنگ مکمل ہونے کے ساتھ پانی کی فراہمی کا نظام بھی 92 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔
ایران کا مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پاکستان نہ آنے کا اعلان
365 ایکڑ رقبے کی صفائی اور سروے مکمل ہونے کے بعد 2020 میٹر طویل سڑک کے لیے زمین کو مضبوط کیا جا چکا ہے، جبکہ ویئر ہاؤس کی تعمیر 90 فیصد مکمل ہو چکی ہے اور دیگر عمارتوں پر کام جاری ہے۔ یہ منصوبہ مجموعی طور پر 500 ایکڑ پر محیط ہے۔
علی والا شرمپ سٹیٹ میں بھی کام تیزی سے جاری ہے، جہاں 1267 ایکڑ میں سے 90 فیصد رقبہ صاف کیا جا چکا ہے اور 737 میں سے 642 تالاب مکمل ہو چکے ہیں۔
ڈرینج سسٹم کا 91 فیصد اور ایم ڈی سی ڈرینز کی کھدائی مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ 9000 میٹر طویل روڈ نیٹ ورک کا سروے مکمل ہونے کے ساتھ 80 فیصد ارتھ فلنگ کا کام بھی انجام پا چکا ہے۔ مزید برآں، 317 ٹیوب ویلز کی بورنگ مکمل کی جا چکی ہے، اور ایڈمن آفس، ہاسٹل، ویئر ہاؤس اور لیبر رہائش کے بنیادی ڈھانچے کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔
شاہ گڑھ شرمپ فارم میں پانی کی فراہمی کا 90 فیصد، بجلی کی فراہمی کا 95 فیصد اور سڑکوں کی تعمیر کا 97 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔
یہ پنجاب میں سرکاری سرپرستی میں جھینگوں کی افزائش کا پہلا جدید سائنسی منصوبہ ہے، جہاں ماہرین نے پانی کے درجہ حرارت کو موزوں قرار دیا ہے۔ جھینگوں کو روزانہ 114 کلوگرام خوراک فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ سپلیمنٹس کے استعمال سے پیداوار اور معیار میں بہتری کی رپورٹس بھی حوصلہ افزا قرار دی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے منصوبے پر تیزی سے ہونے والی پیشرفت پر متعلقہ ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیار کی شرمپ فارمنگ پنجاب کو ایکوا کلچر کا اہم مرکز بنانے میں مدد دے گی، جس سے نہ صرف بنجر زمینیں قابلِ کاشت بنیں گی بلکہ روزگار کے مواقع اور برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔