وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے گندم فروخت کی حد ختم کر دی ہے اور گندم خریداری مہم کو تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت گندم خریداری سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء شرجیل میمن، مخدوم محبوب الزمان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری خوراک عباس نائچ، سندھ بینک کے نمائندے اور دیگر افسران نے شرکت کی۔
شرمپ فارمنگ کے انقلابی منصوبوں پر پیشرفت، بنجر زمینیں معاشی زونز میں تبدیل
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چھوٹے آبادگار اب بغیر کسی پابندی کے گندم فروخت کر سکیں گے، جبکہ فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کیے جانے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا۔ انہوں نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں۔
اجلاس میں وزیر خوراک محبوب الزمان نے گندم خریداری سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مہم یکم اپریل سے شروع کی گئی ہے اور سندھ حکومت نے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سال امدادی قیمت 40 کلو گندم کے لیے ساڑھے 3 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ تقریباً 19 لاکھ 40 ہزار ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی گئی ہے جبکہ 3 لاکھ 32 ہزار سے زائد کاشتکار اس سے وابستہ ہیں، اور اب تک تقریباً 8 ہزار 958 میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہدف حاصل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ چھوٹے آبادگاروں پر فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط تھی، جسے وزیراعلیٰ سندھ نے فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔
سید مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ اب چھوٹے آبادگار بغیر کسی مقدار کی حد کے حکومت کو گندم فروخت کر سکیں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ آبادگاروں کی ادائیگیوں کے نظام کو نمایاں طور پر تیز کر دیا گیا ہے، اور سندھ بینک کے ذریعے رقم ایک دن کے اندر منتقل کی جا رہی ہے۔ اب تک 198.3 ملین روپے آبادگاروں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ادائیگی کے بہتر نظام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بروقت ادائیگی ہاریوں کے اعتماد کے لیے نہایت اہم ہے، اور فوری و شفاف ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ تمام اہل آبادگار اپنی گندم سرکاری خریداری مراکز پر فروخت کریں، کیونکہ یہ اقدام غذائی تحفظ کے ساتھ ساتھ ہاریوں کی مدد کے لیے بھی ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو گندم فروخت کرنے والے آبادگار مستقبل میں سبسڈی کے بھی اہل ہوں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کم خریداری والے اضلاع میں اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو مہم تیز کرنے کا حکم دیا، اور کہا کہ اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکار باقاعدگی سے خریداری مراکز کا دورہ کریں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنرز، مختیارکار اور محکمہ زراعت کے افسران کسانوں سے مسلسل رابطے میں ہیں، جبکہ شکایات کے ازالے کے لیے کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ غیر فعال خریداری مراکز کو فوری فعال بنایا جائے۔
بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ آبادگاروں کی سہولت کے لیے مزید 12 خریداری مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور پورا عمل ہاری دوست اور مؤثر ہونا چاہیے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہاریوں کی مکمل حمایت جاری رکھی جائے گی اور گندم خریداری مہم غذائی تحفظ اور کاشتکاروں کی معاونت کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔