اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور انسانی نقصان کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
اڈیالہ روڈ پر ہنگامہ آرائی: عمران خان کی بہنوں کیخلاف مقدمہ درج
اس کے علاوہ آسٹریلیا، ملائیشیا، جاپان، مصر، انڈونیشیا، عراق اور نیوزی لینڈ سمیت متعدد ممالک نے اس جنگ بندی کو مثبت پیش رفت قرار دیا اور زور دیا کہ تمام فریقین کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔
مصر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ جنگ بندی مذاکرات اور سفارتکاری کے لیے ایک اہم موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی امید ظاہر کی کہ یہ اقدام خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا، تاہم خبردار کیا کہ مستقل امن کے لیے مزید کوششیں درکار ہیں۔
ادھر انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فریقین کو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارتکاری کا احترام کرنا چاہیے، اور وزارت خارجہ نے امن فوجیوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ سے تحقیقات کی اپیل بھی کی ہے۔
ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیا اور کہا کہ ایران کی 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے، جو نہ صرف ایران بلکہ عراق، لبنان اور یمن کے لیے بھی استحکام کا باعث بنے۔
ترجمان جاپانی حکومت منورو کہارا نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، حالات کو حقیقی معنوں میں امن کی جانب لے جانا چاہیے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جائے، اور امید ظاہر کی کہ سفارتکاری کے ذریعے جلد حتمی معاہدہ طے پائے گا۔ جاپان بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
عالمی رہنماؤں نے پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے اس جنگ بندی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔