امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحر الکاہل یا بحر اوقیانوس میں سے کسی ایک کا نام تبدیل کرکے ’بحر ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز پیش کر دی۔

امریکی اخبار کے مطابق، ریاست ٹینیسی کے شہر کلارکس ول میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس اب ایک خلیج ہے، ہمارے پاس ایک خوبصورت جھیل ہے۔ اب کسی نے کہا ہے کہ ہمیں ایک دریا کی ضرورت ہے، ہمیں ایک دریا اور ایک سمندر بھی چاہیے۔
اسٹیو اسمتھ نے ٹیسٹ کرکٹ میں جو روٹ کا ریکارڈ توڑ دیا
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بحر اوقیانوس یا بحر الکاہل کا نام تبدیل کر سکتے ہیں اور یہ بھی تجویز دی کہ نئے نام میں ان کا اپنا نام شامل کیا جا سکتا ہے۔
حاضرین کی ہنسی اور تالیوں کے درمیان ان کا کہنا تھا کہ ہم اسے ’بحر ٹرمپ‘، ’اوشن آف دی امریکاز‘ یا اس جیسا کوئی اور نام دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، ان کے عہدے سے جانے سے پہلے امریکا کے نام پر ایک سمندر اور ایک عظیم دریا ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال ’خلیج میکسیکو‘ کا نام تبدیل کرکے ’خلیج امریکا‘ رکھ دیا تھا، جس کے باعث میکسیکو کے ساتھ سفارتی کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اس فیصلے پر معروف خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے نیا نام استعمال کرنے سے انکار کے بعد بھی تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔
بعد ازاں، کینیڈا کے ساتھ تجارت اور ٹیرف کے تنازع کے دوران رواں سال اگست میں صدر ٹرمپ نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان واقع جھیل ’اونٹاریو‘ کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا‘ رکھنے کا اعلان بھی کیا تھا۔



