*پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر ضروریات کے لیے کافی، اضافی اقدامات کی ضرورت نہیں: وزیر پیٹرولیم*

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی کو تحریری جواب میں بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے موجودہ ذخائر ضروریات کے لیے کافی ہیں، فی الحال اضافی ایندھن بچت اقدامات کی ضرورت نہیں۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ درآمدات اور ملکی ریفائنریوں کی پیداوار کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، ستمبر میں پیٹرول کی طلب 6 لاکھ 92 ہزار ٹن متوقع تھی، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 5 لاکھ 11 ہزار ٹن درآمدات کی منصوبہ بندی کی، ڈیزل کی درآمدات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی کیونکہ ملکی ذخائر اور پیداوار کافی تھی۔
22 ستمبر تک ملک میں پیٹرول کے ذخائر 3 لاکھ 95 ہزار ٹن تھے، بندرگاہ اور جہازوں سمیت مجموعی دستیابی 5 لاکھ 6 ہزار ٹن تھی، جو 22 دن کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔ ڈیزل کے ذخائر 5 لاکھ 68 ہزار ٹن تھے، جو 30 دن کے لیے کافی ہیں۔
جولائی 2026 میں پیٹرول کی فروخت میں سالانہ 18 فیصد اضافہ ہوا، اگست میں جولائی کے مقابلے 9 فیصد کمی ہوئی۔
قیمتوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ تعین عالمی منڈی کے 7 کاروباری دنوں کی اوسط کے مطابق ہوتا ہے، اوگرا حکومت یا وزیراعظم کی منظوری کے بغیر ایکس ڈپو قیمتیں جاری کرتی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیمتوں میں فرق کے کلیمز 120.3 ارب روپے ہیں، جن میں سے 53.8 ارب ادا کیے جا چکے ہیں۔



