بھارتی پولیس نے نوجوانوں کی جماعت ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کو نئی دہلی میں طے شدہ احتجاج سے قبل حراست میں لے لیا۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، ابھیجیت دیپکے کو بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کے لیے نکالی جانے والی تازہ ترین ریلی سے قبل گرفتار کیا گیا ہے۔
پاکستان اہم معدنیات کا عالمی مرکز بننے کی جانب گامزن، ریکو ڈک منصوبے اور عالمی سرمایہ کاری سے معدنی شعبے میں ترقی کی نئی راہیں کھلنے کی توقع
نوجوانوں کی قیادت میں کام کرنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘، اپوزیشن گروپس اور طلبہ تنظیموں نے رواں ماہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کیے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں کی حالیہ نظرِ ثانی کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو دانستہ طور پر فائدہ پہنچایا گیا۔ واضح رہے کہ ووٹر لسٹوں پر نظرِ ثانی کے اس عمل کے دوران 13 کروڑ سے زائد افراد کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیے گئے تھے۔
ابھیجیت دیپکے نے جمعے کو احتجاج کی کال اپنی جماعت کے ان دو رہنماؤں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے دی تھی جنہیں رواں ہفتے پابندی کے باوجود ایک مقام پر مظاہرہ کرنے کے الزام میں حراست میں لے کر پانچ روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔
سی جے پی اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جمعے کی شام نئی دہلی کے مصروف ترین علاقے ’کناٹ پلیس‘ کے سینٹرل پارک میں جمع ہو کر قومی پرچم لہرائیں۔
سی جے پی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر نشر ہونے والی براہِ راست ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابھیجیت دیپکے ایک گھر سے نکل کر سڑک کی جانب جا رہے تھے کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں روک لیا۔ مختصر بحث کے بعد پولیس اہلکار انہیں ایک گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
ویڈیو میں ایک پولیس افسر کو ابھیجیت دیپکے سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’ہم آپ کو ابھی حراست میں لے رہے ہیں۔‘‘ اس پر ابھیجیت دیپکے نے سوال کیا کہ ’’میں نے ابھی تک کوئی قانون نہیں توڑا، آپ مجھے کیسے حراست میں لے سکتے ہیں؟‘‘
خبررساں ایجنسی کے مطابق، اس سے قبل آج پولیس نے ابھیجیت دیپکے سے ملاقات کی تھی اور انہیں احتجاج میں شرکت سے باز رہنے کی وارننگ دی تھی۔



