Gas Leakage Web ad 1

گزشتہ مالی سال پاکستان کی آئی ٹی خدمات کی برآمدات 4.6 ارب ڈالررہیں: وزیر خزانہ

0

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان رواں مالی سال تقریباً 4 فیصد معاشی ترقی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ گزشتہ تین برس کے دوران معیشت سکڑاؤ سے نکل کر بحالی کی جانب بڑھی ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی۔ اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار اور زرعی شعبے، خصوصاً لائیو اسٹاک، میں بھی بہتری کے آثار سامنے آرہے ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی تنازعات اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملکی معیشت میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت مہنگائی، ترسیلاتِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ کا توازن مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قرض لینے والے ممالک کے پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی سربراہی ملنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ پلیٹ فارم تجربات، کامیاب پالیسیوں اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق، یہ پلیٹ فارم قرضوں کی تنظیمِ نو کے لیے لابنگ کرنے کے بجائے باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا فورم ہے۔ قرض لینے والے ممالک کی پہلی مشترکہ ورکشاپ مالدیپ میں منعقد ہوئی، جبکہ اگلی ورکشاپ جنوری میں مصر میں ہوگی۔ پاکستان یکم نومبر سے جی 24 کی سربراہی بھی سنبھالے گا۔

انہوں نے کہا کہ جی 24 کی سربراہی پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کی آواز مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ عالمی مالیاتی اداروں کو زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور بروقت معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام ضروری ہے، تاہم اصل منزل سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کا حصول ہے۔ ماضی میں کھپت اور درآمدات پر مبنی ترقی کے باعث ادائیگیوں کے توازن کے مسائل پیدا ہوئے۔ حکومت اب سرمایہ کاری اور برآمدات کے ذریعے پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
انکم ٹیکس تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں ترمیم
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت برآمدکنندگان کے لیے ٹیکس میں رعایت، ٹیرف میں کمی اور کاروباری لاگت کم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ عالمی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے برآمدی شعبے کو سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان کی آئی ٹی خدمات کی برآمدات 4.6 ارب ڈالر رہیں، جبکہ رواں مالی سال ان کے 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اصلاحات کا عمل منصوبہ بندی سے آگے بڑھ کر عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ گزشتہ دو مالی سال کے دوران ٹیکس محصولات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 9 فیصد سے کم ہوکر تقریباً 10.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ٹیکس نیٹ میں وسعت، مؤثر نفاذ، ڈیجیٹل نگرانی اور ای انوائسنگ پر توجہ دی جارہی ہے۔ فیس لیس کسٹمز نظام کے بعد انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں بھی فیس لیس نظام متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ مربوط ڈیٹابیس اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹیکس اسیسمنٹ اور آڈٹ کے نظام کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ حکومت ٹیکس نظام میں صوابدیدی اختیارات کم کرکے شفافیت، اعتماد اور ادارہ جاتی ساکھ کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ پر کام جاری ہے، جبکہ انشورنس کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی نجکاری بھی حکومت کے فعال منصوبوں میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری میں بڑے پاکستانی کاروباری گروپس کی شرکت سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی سامنے آرہی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق، بجلی کی ابتدائی تین تقسیم کار کمپنیوں کے لیے تین ترک کمپنیاں جانچ پڑتال اور ڈیو ڈیلیجنس کے مرحلے میں ہیں۔ گزشتہ مالی سال پاکستان میں 11 ابتدائی عوامی پیشکشیں (آئی پی اوز) سامنے آئیں، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں مزید 5 آئی پی اوز جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری پائیدار معاشی ترقی کے لیے اہم ہیں۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ علاقائی درجہ بندی میں تبدیلی کے باعث غربت سے متعلق علاقائی اعدادوشمار کا تناظر بھی تبدیل ہوا ہے۔ غربت سے نمٹنے کے لیے فوری سماجی معاونت کے ساتھ طویل مدتی اقدامات بھی جاری ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ بینظیر کفالت پروگرام کے تحت نقد امداد کی رقم میں آئندہ سال جنوری سے اضافہ کیا جائے گا۔ سستے مکانات کی فراہمی کے لیے تقریباً 80 ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں، جبکہ 430 ارب روپے کی فنانسنگ منظور کی جاچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے ہدفی سبسڈی فراہم کی جارہی ہے، جس سے اب تک تقریباً ایک کروڑ منفرد صارفین مستفید ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت کا مستقل حل پائیدار معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تعلیم، صحت اور ہنرمندی کے فروغ میں ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری پر مبنی اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینا چاہتا ہے اور تمام دوطرفہ و کثیرالجہتی شراکت داروں کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بیرونی قرضوں کا تقریباً 40 فیصد کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ قرضوں پر مشتمل ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق، پاکستان نے پانڈا بانڈ 2.5 فیصد شرحِ سود پر جاری کیا، جس کے لیے سرمایہ کاروں کی طلب جاری کردہ رقم سے پانچ گنا سے بھی زیادہ رہی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ستمبر میں یوروبانڈ کے ذریعے بھی بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی حاصل کی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.