لاہور ہائیکورٹ نے ایک ورکر کے 9 لاکھ روپے سے زائد واجبات کی ادائیگی کے معاملے میں پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی کے حتمی فیصلے پر نظرثانی کے اختیار سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قانون میں واضح اجازت کے بغیر کسی اتھارٹی کو اپنے حتمی فیصلے پر نظرثانی کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔

عدالت نے غلام رسول عاصم کی جانب سے دائر آئینی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصل آباد کی پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی کا فیصلہ برقرار رکھا۔
وزیر خزانہ کی ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر سے ملاقات، توانائی، ریلوے منصوبوں پر گفتگو
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پیمنٹ آف ویجز ایکٹ 1936 کے تحت اتھارٹی کو اپنے حتمی فیصلے پر نظرثانی کا قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ نظرثانی کا اختیار صرف اسی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب قانون میں اس کی واضح اجازت دی گئی ہو۔ اس اختیار کو محض قیاس یا مفروضے کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ قانون کے رول 8 کے تحت یک طرفہ فیصلے کو منسوخ کرنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم میرٹ پر فریقین کو سننے کے بعد جاری کیے گئے فیصلے پر اس ضابطے کے تحت نظرثانی نہیں کی جا سکتی۔
عدالت کے مطابق یک طرفہ فیصلے کی منسوخی اور میرٹ پر دیے گئے حتمی فیصلے پر نظرثانی دو الگ قانونی معاملات ہیں۔ جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے فیصلے میں لکھا کہ اگر کسی فریق کے پاس اپیل کا قانونی متبادل موجود ہو تو وہ اس راستے کو اختیار کیے بغیر براہ راست آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کے آئینی دائرہ اختیار سے رجوع نہیں کر سکتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ مقررہ مدت میں اپیل دائر نہ کرنا اور بعد ازاں نظرثانی کا ایسا طریقہ اختیار کرنا جس کی قانون اجازت نہیں دیتا، قانونی طریقہ کار سے بچنے کے مترادف ہے۔ مقررہ رقم جمع کرائے بغیر اپیل کے قانونی تقاضوں سے بچنے کے لیے آئینی درخواست دائر کرنا بھی قابل قبول نہیں۔
اسی طرح حقائق اور شواہد کا ازسرنو جائزہ لینا اپیلیٹ فورم کا کام ہے، آئینی عدالت کا نہیں۔
فیصلے میں پیمنٹ آف ویجز ایکٹ 1936 کو مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی داد رسی کے لیے اہم قانون قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ قانونی اختیارات کا استعمال صرف قانون میں مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ان قانونی نکات کی روشنی میں غلام رسول عاصم کی آئینی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصل آباد کی پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی کا فیصلہ برقرار رکھا۔



