Gas Leakage Web ad 1

پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق کیلئے بذریعہ مذاکرات متعدد کوششیں کی گئیں، وزیر اطلاعات

0

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے غیر ملکی نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے متعدد کوششیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا صرف ایک غیر سیاسی ایجنڈا تھا، جبکہ پی ٹی آئی اپنا مارچ جاری رکھنے کے ساتھ اپنے دیگر سیاسی مطالبات بھی پیش کر سکتی تھی۔ وفاقی حکومت صرف دہشت گردی کے خلاف متحدہ اور متفقہ پالیسی اختیار کرنا چاہتی تھی۔

Gas Leakage Web ad 2

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں ایسی حکومت نہیں ہو سکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی اور ان کی حمایت کرے اور ایسی پالیسی اپنائے جس سے دہشت گردوں کو اپنی کارروائیاں اور سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع ملے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور مشترکہ پالیسی کے حوالے سے مذاکرات کیے جا رہے تھے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک ملک کی دو خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں۔ ایک طرف پاکستان افغانستان کے حوالے سے بات چیت اور سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں۔ عبوری افغان حکومت ایسے قابلِ اعتبار اقدامات کرے جن سے افغان سرزمین پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کی عبوری افغان حکومت کے حوالے سے الگ پالیسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ایک ہی ملک میں دو مختلف پالیسیاں کیسے ہو سکتی ہیں؟

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آئین سازوں نے آئین میں متعلقہ دفعات ایسے ہی حالات سے نمٹنے کے لیے شامل کی تھیں، لہٰذا اٹھائے گئے اقدامات 1973 کے آئین کے تحت قانونی طور پر درست ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں حکمرانی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا اور امن و امان کی صورتحال بھی انتہائی خراب ہو گئی تھی۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ایسی قابلِ بھروسہ اطلاعات موجود ہیں کہ جن علاقوں میں دہشت گرد سرگرم ہیں، وہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو ان اضلاع سے بحفاظت گزرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کا مارچ ان اضلاع سے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطہ کاری کے بعد گزرا اور اسے ان علاقوں سے محفوظ گزرنے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے ذریعے اب تک خیبر پختونخوا حکومت کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ اتنی بڑی رقم دہشت گردی کے خلاف کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) قائم کرنے پر کیوں خرچ نہیں کی گئی؟ یہ رقم خیبر پختونخوا میں سیف سٹی کیمرے نصب کرنے، پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے، فرانزک لیبارٹری قائم کرنے یا پولیس کے لیے جدید آلات خریدنے پر کیوں استعمال نہیں ہوئی؟

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ چند ہفتے قبل انہوں نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کا دورہ کیا تھا، جہاں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ انہوں نے ہسپتال میں زخمیوں سے ملاقات کی اور شہداء کے گھروں پر بھی گئے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے لوگ ہر ممکن طریقے سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ شدید مشکلات اور تکالیف برداشت کرنے کے باوجود زخمی افراد کے عزم اور حوصلے میں کوئی کمی نہیں تھی، تاہم دہشت گردی کے باعث ان کی زندگی اور روزگار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
ملتان میں گندم خوردبرد کیس میں پاسکو کے افسران سمیت 6 ملزمان گرفتار
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ طالبان کے پیش کردہ اسلام کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق طالبان خیبر پختونخوا میں ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہ دیا جائے، اور یہی وہ نظریہ ہے جسے فروغ دیا جا رہا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو حکومت عوام کے جان و مال کی حفاظت اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہے، وہ دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ان کی سرگرمیوں کو فروغ کیسے دے سکتی ہے؟

وزیر اطلاعات کے مطابق صوبے میں سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے درمیان ایک مبینہ گٹھ جوڑ موجود تھا۔ کان کنی اور معدنیات، لکڑی، تمباکو، سونے اور قیمتی پتھروں کی تجارت کا جائزہ لیا جائے تو سرحد پار اسمگلنگ جاری نظر آتی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ ان سرگرمیوں میں دہشت گردوں کو مبینہ طور پر حکومتی سرپرستی اور سہولت فراہم کی جاتی رہی۔

عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ کوہاٹ جاتے ہوئے راستے میں ایک پٹرول پمپ پر وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت ہونے والی رجسٹریشن کا جائزہ لیا، جہاں کسی موٹر سائیکل یا گاڑی کی رجسٹریشن نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے گزشتہ ساڑھے 13 برسوں میں ان گاڑیوں کی رجسٹریشن کیوں نہیں کی؟ ان کے مطابق اس کی وجہ دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ، بدعنوانی، غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام سرگرمیاں بیک وقت جاری تھیں اور حکمرانی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبے کی طرز حکمرانی کا جائزہ لیا جائے تو نہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات ہوئیں، نہ صحت کے شعبے میں اور نہ ہی عوام کو بنیادی سرکاری خدمات فراہم کی گئیں۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام نے بے پناہ مشکلات برداشت کیں اور وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ عوام اس جنگ کو جیتنا چاہتے ہیں، لیکن دوسری جانب ایسی حکومت موجود تھی جس کی پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ ملتی رہی۔ بالخصوص جنوبی اضلاع میں دہشت گرد غیر رسمی طور پر انتظامی ڈھانچے کا حصہ بنے ہوئے تھے۔

عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت قانون کے مطابق دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھی اور متعدد مواقع پر دہشت گردوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے انہیں سمجھانے اور دلیل کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق بالآخر ایک معاہدے پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، لیکن وزیراعلیٰ نے اسے مسترد کر دیا۔ وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ دہشت گردی کے خلاف پالیسی اور کارروائی کے لیے تیار نہیں تھے اور انسداد دہشت گردی کی مربوط پالیسی نافذ کرنے پر بھی آمادہ نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں قومی ایکشن پلان موجود ہے اور اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے اجلاس بھی منعقد ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک صوبہ ان اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کرنے سے گریزاں کیوں تھا؟ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق اس معاملے میں ایک بہت بڑا تضاد موجود ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کے عوام پی ٹی آئی حکومت کے دہشت گردی کے حامی مؤقف کی حمایت کرتے تو لاکھوں افراد سڑکوں پر نظر آتے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے۔ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمانوں نے کہا تھا کہ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہوئی تو لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئیں گے اور گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے، لیکن وہ ایک درجن افراد کو بھی باہر نہیں لا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق عوام میں امید پیدا ہوئی ہے کہ اب ان کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ انہیں تحفظ اور سلامتی فراہم کی جائے گی، ان کے جان و مال اور روزگار محفوظ ہوں گے اور سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے مبینہ گٹھ جوڑ کا خاتمہ کیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابقہ صوبائی کابینہ اور تشکیل دی گئی نئی کابینہ کے ارکان کی قابلیت اور تجربے کا تقابل کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیم کا ہر فرد اپنے شعبے میں نمایاں صلاحیتوں کا حامل ہے، وسیع تجربہ رکھتا ہے اور عوامی خدمت کے میدان میں کام کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کی دیانت داری پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ یہ ایک مشاورتی کونسل ہے جس میں قبائلی توازن برقرار رکھا گیا ہے۔ کونسل میں صنفی نمائندگی کا خیال رکھا گیا ہے اور نجی و سرکاری شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان افراد میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے کا عزم اور حوصلہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کابینہ میں دہشت گردی کا کوئی ہمدرد نہیں ملے گا اور اس کے ارکان تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ اہلیت، صلاحیت اور عوامی خدمات کے حوالے سے قابل اور تجربہ کار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ اور نئی کابینہ کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔

وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے مبینہ گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ان کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 11 گنا اضافہ ہوا۔ 2025 میں دہشت گردی کے 3 ہزار 774 واقعات پیش آئے، جبکہ ستمبر 2026 تک رواں سال کے دوران 2 ہزار 857 واقعات رپورٹ ہو چکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں دہشت گردی کے 6 ہزار 924 مقدمات درج کیے گئے۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں جانی نقصانات میں بھی تقریباً دس گنا اضافہ ہوا۔ 2021 میں دہشت گردی کے نتیجے میں 267 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 2026 میں یہ تعداد 2 ہزار 775 ہو گئی۔ ان کے مطابق 2025 میں سب سے زیادہ 3 ہزار 512 افراد کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ مارچ 2024 سے ستمبر 2026 تک کے گزشتہ 31 ماہ کے دوران دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں 113.7 فیصد اضافہ ہوا اور اس عرصے میں مجموعی طور پر 8 ہزار 442 ہلاکتیں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں لڑنے والی خیبر پختونخوا پولیس کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے اور پولیس کو نشانہ بنانے کے واقعات میں 168 فیصد اضافہ ہوا۔ عطاء اللہ تارڑ نے سوال کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کیا جائے؟ ان کا الزام تھا کہ پی ٹی آئی نے پولیس کو ضروری وسائل فراہم نہیں کیے اور نہ ہی اسے بااختیار بنایا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق بڑے دہشت گردانہ حملوں کی تعداد 1 ہزار 364 رہی، جبکہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد 1 ہزار 532 رہی۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران پولیس کی 18 تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات، یعنی آئی ای ڈیز، کے استعمال میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد کی بلا روک ٹوک آمدورفت جاری رہی اور گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اگر رجسٹریشن کا نظام موجود ہوتا تو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا اور ان کی نگرانی کرنا ممکن ہوتا۔

وزیر اطلاعات نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ حکمرانی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا اور پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ تھا۔ ان کے مطابق حکومت دہشت گردوں کی حمایت کرتی رہی اور انہیں شہریوں کے خلاف حملے کرنے میں سہولت فراہم کی جاتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل ہو کر دہشت گردوں کی حمایت کرنے لگے تو ریاست کے پاس اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔

عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ اب ان 12 اضلاع کے لیے ایک علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل قائم کی جائے گی۔ اس کونسل میں چیئرمین، وائس چیئرمین، ارکان اور ترجمان شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق ایک ایڈیشنل چیف سیکریٹری بھی تعینات ہوں گے، جبکہ یحییٰ اخونزادہ بطور ایڈمنسٹریٹر ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ مختلف ڈائریکٹر جنرلز اور پولیس کے لیے ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل بھی مقرر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی نظام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسداد منشیات کا محکمہ ہوگا، جبکہ قانونی امور، قبائلی امور اور انسانی حقوق کے شعبے بھی قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ بجٹ، بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں اور انتظامی شعبوں کے لیے بھی انتظامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق بورڈ میں علاقائی اور قبائلی نمائندگی کا توازن برقرار رکھا جائے گا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ نیا انتظامی نظام نئی امید کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ سب سے پہلے امن و امان برقرار رکھا جائے گا، جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں ترقی کا عمل آگے بڑھے گا۔ ان کے مطابق اس طرح صوبے کے عوام خوشحالی اور ترقی سے بھرپور زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں گے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.