Gas Leakage Web ad 1

ٹیکس قوانین پر عمل درآمد اور قومی محصولات میں اضافے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے، وزیراعظم

صارفین سے ٹیکس وصول کرکے قومی خزانے میں جمع نہ کرانے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

0

وزیراعظم شہباز شریف نے پیداواری شعبے کے تمام متعلقہ شعبوں میں سیلز ٹیکس کے لیے خودکار نگرانی کا نظام رواں سال 31 دسمبر تک مکمل فعال کرنے کی ہدایت کردی۔

Gas Leakage Web ad 2

اسلام آباد میں ایف بی آر اصلاحات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کیمروں کے ذریعے پیداوار کی نگرانی مؤثر بنائی جائے اور نظام کی تنصیب میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں نگرانی کا نظام نصب کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل، پیکیجڈ پانی، جوس اور دودھ کے شعبوں میں تنصیب کا عمل جاری ہے۔ اسٹیل، پولٹری اور ٹائرز کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 15 اکتوبر، جبکہ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے، کاغذ و بورڈ اور تیل و گھی کے شعبوں کے لیے 30 اکتوبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے ان صنعتوں کو سراہا جنہوں نے رضاکارانہ طور پر نگرانی کا نظام نصب کیا۔ انہوں نے کہا کہ صارفین سے وصول کیا جانے والا ٹیکس قومی خزانے میں جمع ہونا چاہیے اور ٹیکس چوری کرنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ وزیراعظم نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو دیگر شعبوں میں بھی نگرانی کے نظام کی مؤثریت جانچنے کے لیے آڈٹ کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران حکومتی اقدامات اور ٹیکس نفاذ کے نتیجے میں 1.3 ٹریلین روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا، جو ٹیکس وصولی میں 40 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ وزیراعظم نے ٹیکس استعداد اور حقیقی وصولی کے فرق کا جامع جائزہ پیش کرنے پر ایف بی آر ٹرانسفارمیشن ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور اجلاس کے اختتام پر ٹیم کے ارکان کو شیلڈز پیش کیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.