نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے، جبکہ خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تھا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر صوبے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی خطے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں اور ہمت، بہادری اور مضبوطی کے ساتھ اس کا سامنا کیا ہے۔
ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان توانائی تنصیبات پرحملے روکنے پر اتفاق ہونے کا اعلان
اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کے کردار اور قربانیوں کا اعتراف کافی نہیں، جبکہ پاکستان اپنے تحفظات سے عالمی بینک کو بھی آگاہ کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سانحہ جعفر ایکسپریس اور بلوچستان میں مزدوروں کے اغوا اور شہادتوں جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل کی ہدایت پر روزانہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیے جا رہے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ افغان حکومت کو اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔ دہشت گردی کے معاملے پر بات چیت کے لیے افغانستان کے دورے بھی کیے گئے، لیکن بدقسمتی سے افغان حکام نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سرحد پار سے دہشت گرد دراندازی کرکے پاکستانی جوانوں اور شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کی بھرپور مدد کی ہے اور امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملے بند ہونے چاہئیں، کیونکہ وہاں سے نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے کا منصوبہ بھی افغان سرزمین پر بنایا گیا تھا۔ افغان حکومت کو دہشت گردوں کی ہر قسم کی معاونت، بشمول اسلحے کی فراہمی، فوری طور پر بند کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث تھا اور بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ پاکستان تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے اور دنیا اسے ایک امن پسند ملک کے طور پر جانتی ہے۔ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششیں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں بھی دھرنوں کے ذریعے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا گیا اور ان کے باعث پاکستان کو شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ دھرنوں اور احتجاج سے معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنا آسان فیصلہ نہیں تھا، لیکن حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تھا۔ صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مکہ دفاعی اتحاد سے متعلق اسحاق ڈار نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں امن قائم کرنا ہے اور یہ دفاعی اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔



