ٹرمپ انتظامیہ نے روس کی توانائی تنصیبات اور آئل ریفائنریز پر حملے روکنے کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے اسے ہتھیاروں کی فراہمی معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ہفتے اور اتوار کے روز امریکی حکام کی جانب سے موصول ہونے والی فون کالز اور بریفنگز کا حوالہ دیتے ہوئے یورپی حکام نے بتایا کہ امریکا روس کی آئل ریفائنریز پر حملے رکوانے کے لیے یورپی ممالک اور یوکرین میں مسلسل لابنگ کر رہا ہے۔
دنیا کی سب سے زیادہ آسیب زدہ سڑک کہاں ہے؟
حکام کے مطابق، امریکی پیغام میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور ہتھیاروں کی فراہمی کے نظام ’پرل‘ کو منقطع کرنے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب، اتوار کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت یوکرین اور یورپی ممالک کو حیران کر دیا جب انہوں نے سوشل میڈیا پر اچانک اعلان کیا کہ یوکرین اور روس ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے پر متفق ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ روس امریکا اور عالمی منڈی کو فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ انتہائی کامیاب گفتگو ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، روس نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن ڈیزل فوری طور پر فراہم کرے گا، جبکہ نومبر کے بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل بھی فراہم کیا جائے گا۔



