سیالکوٹ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جی پی ایس مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ متاثر

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر اور سیالکوٹ سیکٹر میں جی پی ایس سگنلز، یعنی گلوبل پوزیشننگ سسٹم، میں غیرمعمولی مداخلت کے باعث فلائٹ ٹریکنگ میں بڑی گڑبڑ سامنے آرہی ہے۔
پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا افغانستان کے ساتھ، عطا تارڑ
فلائٹ ریڈار 24 پر ہفتہ اور اتوار کی رات سوا 2 بجے دوحا سے آنے والی پرواز کیو آر 630 سیالکوٹ ایئرپورٹ پر لینڈنگ اپروچ پر تھی کہ جی پی ایس اسپوفنگ، سگنلز جمپنگ یا لوکیشن گلچز کے باعث فلائٹ ریڈار پر اسے مقبوضہ کشمیر کے جموں ایئرپورٹ پر ڈائیورٹ ظاہر کیا گیا۔ علاقے میں اس طرح کے واقعات عام ہوچکے ہیں، خاص طور پر جون 2026 میں ایک ہی دن میں 3 پروازوں کی لوکیشن تبدیل ہوگئی تھی۔
26 جون کو دبئی سے آنے والی پرواز ایف زیڈ 337 نے معمول کے مطابق سیالکوٹ میں لینڈ کیا، تاہم سگنلز اسپوفنگ یا لوکیشن گلچز کے باعث فلائٹ ریڈار کے ڈیٹا میں اسے مقبوضہ جموں و کشمیر ڈائیورٹ ظاہر کیا گیا۔ اسی طرح 27 جون کو شارجہ کی پرواز جی 9552 اور دبئی سے آنے والی ایف زیڈ 337 بھی معمول کے مطابق سیالکوٹ اتریں، تاہم لینڈنگ اپروچ کے دوران ڈیٹا ایرر کے باعث ان پروازوں کی جموں ایئرپورٹ پر متبادل لینڈنگ ظاہر ہوئی۔ علامہ اقبال ایئرپورٹ کی کئی پروازوں کے ساتھ بھی ایسا ہوچکا ہے۔
سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی قطر ایئرویز کی پرواز سے متعلق خبروں کی تردید بھی کی گئی ہے۔
جی پی ایس اسپوفنگ، سگنلز جمپنگ اور لوکیشن گلچز کے باعث ماضی میں درجنوں بحری جہاز بھی شہروں کی سڑکوں پر یا عمارتوں کے اوپر چلتے دکھائی دیے ہیں۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق جی پی ایس اسپوفنگ، سگنلز جمپنگ، لوکیشن گلچز یا اے ڈی ایس بی ایرر کے باعث اکثر ٹریکنگ ویب سائٹس پر مقام کے کوڈز میچ نہیں ہوتے۔ فضائی روٹس کی پوزیشن درست ظاہر نہ ہونے کی صورت میں ڈیٹا ڈیفالٹ سیٹنگز پر چلا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سیالکوٹ اور جموں کے درمیان فاصلہ تقریباً 40 کلومیٹر ہے، قریب ترین لوکیشن ہونے کی وجہ سے فلائٹ ریڈار میپ پر متبادل لینڈنگ کے طور پر جموں ظاہر ہوتا ہے، جبکہ حقیقت میں پرواز نے معمول کا سفر کیا تھا۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق ’ریڈار ڈیٹا ایرر‘ درحقیقت طیارے کے اپنے نیوی گیشن سسٹم میں خرابی نہیں ہوتی بلکہ تھرڈ پارٹی ٹریکنگ ویب سائٹس اور سیٹلائٹ سگنلز کے درمیان مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال بعض اوقات خطے میں فوجی مشقوں یا سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بھی پیش آتی ہے۔



