Gas Leakage Web ad 1

وہ عام غذا جس کو زیادہ کھانا متعدد دائمی امراض اور موت کا خطرہ بڑھاتا ہے

0

الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال متعدد دائمی امراض اور قبل از وقت موت کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

یہ بات جرنل فیملی میڈیسن اینڈ کمیونٹی ہیلتھ میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال سے نظام ہاضمہ کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، میٹابولک سینڈروم، ذیابیطس اور موت سمیت متعدد دائمی بیماریوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
پنجاب حکومت نے 27 ستمبر سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسزکی بندش کی درخواست کردی
واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران کئی مراحل سے گزرتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا، خصوصاً فائبر، کی مقدار کم ہوتی ہے۔

الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، ناشتے کے سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔

ان غذاؤں کو متعدد دائمی امراض، جن میں امراض قلب اور کینسر بھی شامل ہیں، سے منسلک کیا جاتا ہے۔ نئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان غذاؤں کے استعمال میں ہر 100 فیصد اضافے کے ساتھ طبی پیچیدگیوں کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

رپورٹ میں 51 تحقیقی مطالعات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، جن میں مجموعی طور پر 88 لاکھ سے زائد افراد شامل تھے اور ان کی صحت کی 2 سے 32 سال تک نگرانی کی گئی۔

ان افراد کی غذائی عادات کی تفصیلات سوالناموں، غذائی تاریخ اور دیگر ذرائع سے حاصل کی گئیں، جس کے بعد ان معلومات کا بیماریوں کی تاریخ سے موازنہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال سے امراض قلب، بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج، کا خطرہ 24 فیصد، کینسر کا خطرہ 12 فیصد، موٹاپے کا خطرہ 23 فیصد، میٹابولک سینڈروم اور ذیابیطس کا خطرہ 24 فیصد، ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ 27 فیصد، نظام ہاضمہ کے امراض کا خطرہ 31 فیصد، ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 11 فیصد جبکہ کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

مزید تجزیے سے معلوم ہوا کہ روزانہ الٹرا پراسیس غذاؤں کی مقدار میں ہر اضافی 100 گرام اضافے سے امراض قلب کے خطرے میں 14 فیصد، کینسر کے خطرے میں 4 فیصد اور کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے میں 3 فیصد مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

محققین نے تسلیم کیا کہ نتائج کسی حد تک محدود ہیں کیونکہ تحقیق میں لوگوں کی جانب سے فراہم کی گئی غذائی تفصیلات پر انحصار کیا گیا تھا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال اور سنگین امراض کے خطرے کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔

اس سے قبل جون 2025 میں برازیل کی ساؤ پاؤلو یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال اور کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کے درمیان تعلق موجود ہے۔

محققین کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال میں ہر 10 فیصد اضافے سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 3 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں 8 ممالک میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ امریکا وہ ملک ہے جہاں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے اور تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکی شہریوں کی پسندیدہ غذاؤں کے باعث ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ 14 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق ماضی میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال کو کینسر، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر سمیت 32 بیماریوں سے منسلک کیا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان غذاؤں کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔

دسمبر 2024 میں آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال قبل از وقت بڑھاپے کا شکار بنانے کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ غذائیں حیاتیاتی عمر میں اضافے کی رفتار کو تیز کردیتی ہیں۔

واضح رہے کہ ہر فرد کی عمر کا تعین عام طور پر تاریخ پیدائش کے مطابق کیا جاتا ہے جسے کرانیکل ایج کہا جاتا ہے، تاہم طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر، یعنی بائیولوجیکل ایج، بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کی عکاسی کرتی ہے۔

جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر حیاتیاتی عمر پر اثرانداز ہوتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی، مختلف بیماریوں کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ سکتا ہے۔

اس تحقیق میں 20 سے 79 سال کی عمر کے 16 ہزار سے زائد افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا اور ان کی صحت اور طرز زندگی کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال اور حیاتیاتی عمر میں اضافے کی رفتار کے درمیان واضح تعلق دریافت کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کی مقدار میں ہر 10 فیصد اضافے سے حیاتیاتی عمر اور کرانیکل ایج کے درمیان 2.4 ماہ کا فرق پیدا ہوجاتا ہے۔

جو افراد اپنی روزانہ کی 68 سے 100 فیصد کیلوریز الٹرا پراسیس غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں، وہ 2 ماہ کے دوران حیاتیاتی طور پر اپنی اصل عمر سے تقریباً ایک سال بڑے ہوجاتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پراسیس غذاؤں کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال میں اضافے سے حیاتیاتی عمر بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں قبل از وقت موت کا خطرہ تقریباً 2 فیصد جبکہ کسی بھی دائمی مرض کا خطرہ 0.2 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.