Gas Leakage Web ad 1

چودہ چراغ — جب لوریاں راکھ ہو گئیں

(چودہ نومولود، چودہ ماؤں کی اجڑی گودیں اور ایک ایسا سوال جس سے ریاست کو نظریں ملانا ہوں گی)حرفِ محتاط / ملک خالد ضمیر

0

تا حدِ نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں
پھولوں کے نگہبان سے کچھ بھول ہوئی ہے

Gas Leakage Web ad 2

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

مگر پمز کی نرسری میں تو فقیروں کی کمائی بھی نہیں لٹی، یہاں ماؤں کی کوکھ اجڑی ہے۔

وہ بچے چلے گئے جنہیں دنیا میں آئے ابھی چند دن، شاید چند گھنٹے ہی ہوئے تھے۔ وہ بچے جو خود اپنی جان بچانے کے قابل نہیں تھے، جنہیں ایک کروٹ بدلنے کے لیے بھی کسی دوسرے ہاتھ کی ضرورت تھی۔

وہ چودہ بچے صرف چودہ اموات نہیں تھے۔

وہ چودہ ماؤں کی نو ماہ کی تکلیف تھے۔

وہ نو ماہ، جن میں ایک ماں اپنے جسم کے اندر ایک زندگی کو پالتی ہے، درد سہتی ہے، اپنی نیندیں قربان کرتی ہے، ہر تکلیف برداشت کرتی ہے اور ہر لمحہ اپنے بچے کی سلامتی کی دعا کرتی ہے۔

پھر ولادت کا درد سہتی ہے۔ جب بچہ دنیا میں آتا ہے تو اس کی ساری تکلیف ایک لمحے میں خوشی بن جاتی ہے۔ مگر پمز میں ان ماؤں کی وہ خوشی، وہ امید، وہ مستقبل آگ کے شعلوں میں ختم ہوگیا۔

ماؤں کی کوکھ تو رک گئی، مگر ان کی آہیں کہاں رکیں گی؟

ان کی سسکیاں کہاں رکیں گی؟ ان کی وہ حسرت کہاں جائے گی کہ ایک بار اپنے بچے کو سینے سے لگا لیں، ایک بار اس کا چہرہ دیکھ لیں، ایک بار اس کے ننھے ہاتھ کو اپنی انگلی میں محسوس کر لیں؟

اس کرب کی پیمائش کوئی ترازو نہیں کر سکتا۔

آگ لگی، شعلے بلند ہوئے، ریسکیو پہنچا، آگ بجھ گئی، مگر ایک سوال اب بھی جل رہا ہے:

اس وقت نرسری کے اندر کیا ہو رہا تھا؟

ڈاکٹر کہاں تھے؟ نرسز کہاں تھیں؟ ڈیوٹی پر موجود عملہ کہاں تھا؟ بچوں کو نکالنے کا ہنگامی طریقۂ کار کیا تھا؟ کس نے الارم بجایا؟ کس نے بچوں کو نکالا؟ اور کتنے وقت میں؟

ہم کسی ڈاکٹر یا نرس کو ثبوت کے بغیر مجرم قرار نہیں دے سکتے۔ لیکن ہم یہ سوال ضرور پوچھ سکتے ہیں کہ ایک ایسے شعبے میں جہاں نومولود خود ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے، وہاں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا نظام کس حد تک مؤثر تھا؟

اگر ایک ایک بچے کو اٹھا کر باہر منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تو کتنے بچے نکالے گئے؟ اگر نہیں کی گئی تو کیوں نہیں؟ کیا عملے کو تربیت دی گئی تھی؟ کیا فائر ڈرل ہوئی تھی؟ کیا الارم نے وقت پر کام کیا؟ کیا ایمرجنسی ایگزٹ قابلِ استعمال تھا؟ کیا آکسیجن، بجلی اور اے سی کا نظام محفوظ تھا؟

یہ سوال الزام نہیں۔
یہ چودہ معصوم جانوں کا حق ہیں۔

دنیا میں ایسے واقعات کی مثالیں موجود ہیں جہاں ہسپتال کا عملہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر نومولودوں کو بچانے کے لیے آگ میں داخل ہوا۔ 2024 میں بھارت کے جھانسی کے ایک ہسپتال کے نوزائیدہ یونٹ میں آگ لگی تو نرس میگھا جیمز نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچوں کو نکالنے کی کوشش جاری رکھی۔ رپورٹس کے مطابق اس کے کپڑوں اور پاؤں کو آگ لگی، مگر وہ بچوں کو بچانے کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹی۔
یہ مثال پمز کے کسی اہلکار کو قصوروار ثابت نہیں کرتی، لیکن ایک بنیادی سوال ضرور اٹھاتی ہے:
ہسپتال میں ایمرجنسی آئے تو انسانی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے؟

ڈاکٹر فائر فائٹر نہیں ہوتا، یہ درست ہے۔ لیکن ہسپتال بھی صرف عمارت کا نام نہیں۔ وہاں ایسا نظام ہونا چاہیے جہاں ڈاکٹر، نرس، پیرامیڈیکل اسٹاف اور انتظامیہ سب کو معلوم ہو کہ ایسی صورت میں کس کی کیا ذمہ داری ہے۔

زندگی بچانا کسی ایک فرد کا کام نہیں، پورے نظام کا امتحان ہے۔

ایک اور سوال لوگوں کے ذہنوں میں ہے: اگر آگ اتنی شدید تھی تو کیا کوئی ڈاکٹر، نرس یا دوسرا عملہ زخمی ہوا؟ اگر نہیں ہوا تو کیوں؟ کیا سب لوگ بروقت باہر نکل گئے؟ کیا کسی نے بچوں کو نکالنے کی کوشش کی؟ کتنے لوگ اندر تھے؟

یہ تمام سوالات CCTV، ڈیوٹی روسٹر، فائر الارم لاگ اور فرانزک شواہد سے جواب مانگتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سازشوں کی کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ کوئی کسی ڈاکٹر کو قاتل کہتا ہے، کوئی پورے عملے کو چور قرار دیتا ہے، کوئی بچوں کے حوالے سے ناقابلِ تصور دعوے کر رہا ہے۔

نہیں۔
نہ ہمیں اندھا غصہ چاہیے، نہ اندھی صفائیاں۔
ہمیں سچ چاہیے۔

اگر کسی کی غفلت ثابت ہو تو وہ کسی عہدے کے پیچھے نہ چھپ سکے۔ اگر انتظامیہ ناکام ہوئی تو انتظامیہ جواب دے۔ اگر فائر سیفٹی ناقص تھی تو ذمہ دار سامنے آئیں۔ اگر کسی ڈاکٹر، نرس یا دوسرے اہلکار کی پیشہ ورانہ غفلت ثابت ہو تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے۔

اور اگر کوئی بے قصور ہو تو اسے صرف عوامی غصے کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔

یہی انصاف ہے۔
اصل خوف یہ ہے کہ مسئلہ صرف پمز تک محدود نہ ہو۔ اس ملک کے سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں شکایات نئی نہیں۔ کہیں ڈاکٹر دستیاب نہیں، کہیں نرسنگ اسٹاف کم ہے، کہیں مشین خراب ہے، کہیں دوا نہیں ملتی، کہیں سفارش چلتی ہے، کہیں مریض ٹیسٹ، پرچی، دوا اور مختلف کاؤنٹروں کے درمیان پستا رہتا ہے۔

جہاں کہیں مبینہ کمیشن، سفارش، غیر حاضری یا ذاتی مفاد ثابت ہو، وہاں معاملہ صرف بدعنوانی نہیں رہتا؛ وہ انسانی زندگی کے ساتھ ناانصافی بن جاتا ہے۔

لیکن یہاں بھی اصول وہی ہے: الزام نہیں، ثبوت۔ جو ثابت ہو، اس پر کارروائی ہو؛ جو ثابت نہ ہو، اسے غصے میں مجرم نہ بنایا جائے۔

کیونکہ ہمارا مقصد کسی ایک شخص کو قربانی کا بکرا بنانا نہیں۔
مقصد یہ ہے کہ آئندہ کسی ماں کی گود نہ اجڑے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں کیوں پہنچ گئے ہیں جہاں سانحہ ہوتا ہے، تعزیت ہوتی ہے، بیان آتا ہے، کمیٹی بنتی ہے، انکوائری ہوتی ہے، رپورٹ آتی ہے، چند دن شور ہوتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے؟

مگر جن گھروں میں موت داخل ہوتی ہے، وہاں زندگی کبھی معمول پر نہیں آتی۔

وہ ماں جب بھی کسی نومولود کو دیکھے گی، اسے اپنا بچہ یاد آئے گا۔ وہ باپ جب بھی ہسپتال کے قریب سے گزرے گا، شاید اس کے قدم رک جائیں گے۔

وہ گھر جس میں بچے کی آمد پر خوشیاں آنی تھیں، وہاں اب خاموشی ہوگی۔
چودہ بچوں کے جسم شاید آگ میں جل گئے، مگر ان کے جانے سے چودہ خاندانوں کے مستقبل بھی جل گئے۔

اب صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

بتائیے کون ذمہ دار ہے۔
اگر معلوم نہیں تو معلوم کیجیے۔
اگر نظام ناکام ہوا تو نظام بدلیے۔

اگر حفاظتی انتظامات ناقص تھے تو انہیں درست کیجیے۔
اگر تربیت نہیں تھی تو تربیت دیجیے۔
اگر نگرانی نہیں تھی تو نگرانی کا نظام بنائیے۔

اور اگر کہیں انسانی غفلت تھی تو اسے چھپائیے نہیں۔
کیونکہ ریاست کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہ طاقتور کو بچا لے۔
ریاست کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ کمزور کی جان بچائے۔

آج پمز میں چودہ چراغ بجھے ہیں۔ چودہ ماؤں کی دنیا اجڑی ہے۔ چودہ خاندانوں کے خواب جل گئے ہیں۔

اور ان شعلوں میں صرف ننھے جسم نہیں جلے—

ماؤں کی محنت جلی، امیدیں جلیں، حسرتیں جلیں، دعائیں جلیں، مستقبل جلا۔

اب سوال یہ نہیں کہ آگ کس چیز سے لگی۔ یہ سوال بھی ضرور ہوگا۔ مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے:

ایسی آگ دوبارہ نہ لگے، اس کے لیے ہم نے کیا سیکھا؟

کیونکہ اگر آج بھی ہم نے صرف چند دن ماتم کیا، چند بیانات سنے، ایک کمیٹی بنائی اور پھر سب بھول گئے تو اگلی بار کسی اور ماں کی کوکھ اجڑے گی۔

اور تب بھی شاید ہم یہی کہیں گے

تا حدِ نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں
پھولوں کے نگہبان سے کچھ بھول ہوئی ہے۔

مگر اس بار ہمیں صرف شعر نہیں دہرانا۔
ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ دوبارہ کسی ماں کی کوکھ نہ جلے۔
حرف محتاط/ملک خالد ضمیر

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.