Gas Leakage Web ad 1

نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی نے پالیسی واضح کردی، ن لیگ جب فیصلہ کرے گی تو سب کے سامنے ہوگا: رانا ثناءاللہ

0

نئے صوبوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، رانا ثناء اللہ

Gas Leakage Web ad 2

وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ صوبے بنیں گے یا نہیں بنیں گے تو میں پارلیمنٹ کو بائی پاس کر رہا ہوں، حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ مسلم لیگ ن جب نئے صوبوں کے حوالے سے فیصلہ کرے گی تو سب کے سامنے ہوگا، جبکہ پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر اوور ری ایکٹ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی پالیسی واضح کردی ہے، اگر ریفرنڈم کا فیصلہ ہوتا بھی ہے تو اس کی اجازت پارلیمنٹ نے دینی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں ملک کی ترقی کے لیے یکجا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ نہ ہوتی تو یہ گروتھ گلی محلوں تک نظر آتی، جبکہ پوری دنیا میں پاکستان کو جو عزت اور مقام ملا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کو آئین پاکستان کا باضابطہ حصہ بنا دیا گیا
انہوں نے کہا کہ 9 مئی تحریک انصاف کی حماقت تھی، انہیں اس پر معافی مانگنی چاہیے تھی۔ انہیں موقع بھی دیا گیا کہ وہ اپنی غلطی پر جواب دیں۔ جو لوگ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں، ان لوگوں کا بھی اس ایونٹ سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں یہ کہوں کہ صوبے بنیں گے یا نہیں بنیں گے تو میں پارلیمنٹ کو بائی پاس کر رہا ہوں، حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ پیٹرولیم کی صورتحال کو علی پرویز ملک نے کئی مرتبہ عوام کے سامنے رکھا ہے۔ اگر ملک ہنگامہ آرائی کا شکار ہوتا ہے تو کس کو نقصان ہوگا؟ قیمتیں جو بڑھ رہی ہیں، اس کی وجہ امریکہ اور ایران کی جنگ ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس جنگ کو روکنے کی کوشش جتنی پاکستان نے کی ہے کسی نے نہیں کی۔ قیمتوں کے بڑھنے میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کا احتجاج اپنی جگہ پر ضرور ہے۔ محسن نقوی ہماری کابینہ کے معزز ممبر ہیں، سیکیورٹی کی صورتحال پر محسن نقوی کے ساتھ میٹنگز ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر یہ فرما رہے ہیں کہ میں وزیراعظم آفس نہیں جانا چاہتا، وزیراعظم آفس ریاست کی بلڈنگ ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی پالیسی واضح کردی ہے، مسلم لیگ ن جب نئے صوبوں پر فیصلہ کرے گی تو سب کے سامنے ہوگا۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پنجاب میں صوبائی اسمبلی چاہے تو ایکٹ میں تبدیلی کر سکتی ہے۔ نواز شریف نے کمیٹی بنائی، اس میں تفصیلی بات چیت کے بعد ایکٹ بنا، ایکٹ گورنمنٹ کو بھیجا گیا اور وہ ایکٹ کی شکل میں موجود ہے۔ بلدیاتی ادارے ہونے ہی عوام کے قریب چاہییں، بڑے شہروں میں میونسپل کمیٹیوں کو عوام کے قریب لایا گیا ہے، اگر اختیارات کم ہیں تو اختیارات زیادہ دیے جا سکتے ہیں۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ اگر ریفرنڈم کا فیصلہ ہوتا بھی ہے تو اس کی اجازت پارلیمنٹ نے دینی ہے۔ جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے، اس نے جو بھی دھرنے یا لانگ مارچ کیا وہ آئینی اور قانونی طریقے سے ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کا پرامن احتجاج ہوگا۔ پیٹرول کی قیمت کم ہونے کی جتنی خواہش جماعت اسلامی کی ہے اتنی ہی وزیراعظم کی ہے۔ حکومت سنجیدگی سے اس معاملے پر غور کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی والے خود کو مشقت میں نہ ڈالیں، ہم نے جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ اسے 2 ہفتے کے لیے مؤخر کریں۔

ایک صاحب فرما رہے تھے کہ ہم اسلام آباد جا رہے ہیں، اس نظام کو گرائیں گے۔ یہ بھی رپورٹس ہیں کہ ان کی جو گیدرنگ ہوگی، اس میں مسلح لوگ ہوں گے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان جو چیزیں پائی جا رہی ہیں، ان پر بہتر انداز میں حل ہوگا۔ وزیر داخلہ کی تقاریر، بیانات اور مختلف فورمز پر بات کرنے سے کوئی بہتری نہیں آئی۔ یہ بات پارلیمنٹ میں ہی ہونی چاہیے تھی۔ جب یہ بحث پارلیمنٹ میں آئے گی تو تمام پارٹیاں اپنا مؤقف بیان کریں گی۔ نئے صوبوں کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے مؤقف پر بات چیت جاری ہے، مسلم لیگ ن بحث میں حصہ بھی لے گی اور وزیراعظم پاکستان اس پر بات کریں گے۔ مسلم لیگ ن کی وفاق اور پنجاب میں حکومت ہے، اکنامک فورم پر ہونے والی یہ بات نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی نے اس پر اوور ری ایکٹ کیا ہے۔ صوبے بننے یا نہ بننے کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ جب انہوں نے کہا کہ میں رہوں یا نہ رہوں صوبے بنیں گے، پھر انہوں نے کہا کہ عوام اگر چاہے گی تو بنیں گے۔ وفاقی وزیر نے کابینہ اور پارلیمنٹ میں ابھی تک کوئی بات نہیں کی، کابینہ کے اجلاس میں کسی وزیر نے یہ بات نہیں کی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.