حکومت نے سرکاری ملازمین کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بھی کڑی نگرانی شروع کردی ہے، جبکہ نئے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری افسران کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی نئے رولز کے دائرے میں آگئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ نہ ہوسکا
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت مخالف سرگرمیوں یا بیانیے کی تشہیر میں ملوث سرکاری ملازمین بھی ریڈار پر آگئے ہیں، گمنام یا فرضی اکاؤنٹس کے ذریعے حکومت یا اداروں کو بدنام کرنے پر بھی کارروائی کی جائے گی۔ کوئی افسر ذاتی سوشل میڈیا پر سرکاری کام کو تشہیر کے لیے بھی استعمال نہیں کرسکے گا، جبکہ سرکاری اکاؤنٹس کو ذاتی تشہیر، برانڈنگ اور نمائش کے لیے استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
کسی بھی افسر سے سرکاری یا نجی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی جاسکتی ہیں، جبکہ سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی پیشگی تحریری اجازت سے بنائے اور چلائے جائیں گے۔ سرکاری اکاؤنٹس پر صرف تصدیق شدہ سرکاری معلومات اور سرگرمیاں ہی نشر کی جائیں گی۔
عہدہ چھوڑنے والا افسر تمام سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا کنٹرول چھوڑنے کا پابند ہوگا۔ عہدہ چھوڑنے والا افسر لاگ اِن، آرکائیو ڈیٹا اور انتظامی رسائی جانشین کے حوالے کرکے جائے گا۔ حکومتی پالیسی یا مؤقف کے خلاف رائے یا معلومات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
قواعد کے دائرے میں ٹی وی، ریڈیو، پوڈ کاسٹ، بلاگ، ویڈیوز، ویب سائٹ اور سوشل میڈیا شامل ہیں، جبکہ رولز کی خلاف ورزی پر سرکاری افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔